حیات شمس

by Other Authors

Page 610 of 748

حیات شمس — Page 610

حیات ٹس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 578 چاہتے ہیں لیکن پھر میں جلدی سے جامعہ چلا گیا۔ادھر تقریباً دس بجے ابا جان نے دفتر سے باہر کسی کو کہا کہ لائف (انگریزی رسالہ جس کا لفظی ترجمہ ہے زندگی) کہاں ہے؟ تو اُس نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا۔تو بار بار آپ نے مڑ مڑ کر پوچھا۔اُس شخص کا بیان ہے کہ میں بہت گھبرا گیا تھا کہ آج کیا بات ہے؟ پہلے تو کبھی ایسا نہ کرتے تھے۔خیر آپ نے پھر پوچھا کہ لائف کہاں ہے؟ تو اُس نے کہا میں ابھی لا دیتا ہوں۔تو آپ نے فرمایا کہ اچھا میں نے سرگودھا جانا ہے اس کی مجھے بہت ضرورت تھی اس لئے چلو ہمارے گھر میں ہی پہنچا دینا۔“ اسی طرح 13 اکتوبر کی صبح کو جس روز آپ کی وفات ہوئی فرما رہے تھے کہ مجھ پر انڈیکس تیار کرنے کا بہت بوجھ تھا، شکر ہے کہ آج ختم ہو گیا۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔اس چھوٹے سے مضمون میں ساری باتیں تو ہرگز نہیں آسکتی ہیں۔بہر حال ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کچھ لکھ دیا ہے۔آخر میں درخواست ہے جہاں آپ سب حضرت والد صاحب کی بلندی درجات کے لئے دعا فرمایا کریں وہاں میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ مجھے والد صاحب کے نقش قدم پر چلنے کی اور آپ کی توقعات اور خواہشات کو پورا کرنے والا بنائے اور ہم سب کو اپنے فضل اور رحم سے نوازتا رہے۔آمین۔وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ماہنامہ الفرقان شمس نمبر جنوری 1968ء) ایک روحانی عالم با عمل انسان کے اقوال و اعمال کی ایک جھلک ( از مکرم خواجہ محمد افضل بٹ صاحب ) نوٹ : آپ حضرت مولا نائٹس صاحب کے بھانجے ہیں اور ربوہ میں مقیم میں مکرم منیر الدین صاحب شمس کی درخواست پر دودون میں آپ نے یہ تاثرات تحریر کئے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔13 اکتوبر 1966ء کی رات کسی صورت میں بھلائی نہیں جاسکتی جبکہ آسمانِ احمدیت کا ایک درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا اور ہم سب لوگ ایک نہایت ہی بلند پایہ شخصیت سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئے۔آپ کی وفات سرگودھا میں ہوئی۔رات کا وقت تھا۔ہم سب سونے کے لئے لیٹے ہوئے تھے۔اچانک دروازہ کھٹکا۔والد صاحب نے دروازہ کھولا۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ خواجہ نذیر احمد صاحب تھے جو ربوہ سے سائیکل پر احمدنگر آئے۔ہم سب سن رہے تھے جب انہوں نے والدہ صاحبہ کوتسلی دیتے ہوئے یہ