حیات شمس

by Other Authors

Page 609 of 748

حیات شمس — Page 609

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 577 اذان دی اور نماز شروع ہوگئی۔کسی نے کہا کہ پھر اذان دے دو۔میں بچہ تو تھا ہی میں نے پھر اذان دینی شروع کر دی تو پھر مربی صاحب نے مجھے کہا کہ اب تو بس کرو، اب نماز شروع ہوگئی ہے۔اُس زمانہ میں ابا جان مسجد مبارک میں نماز پڑھنے آیا کرتے تھے۔میں نے تو صرف مسجد مبارک کا نام ہی سُنا ہوا تھا۔اُس وقت سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے تحریک کی کہ وہ مبلغین جن کے تین یا چار بچے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ ایک کو دین کی راہ میں وقف کر دیں تو میرے شوق اور جذ بہ کو دیکھ کر ابا جان نے مجھے وقف کر دیا۔پھر جب میں ساتویں یا آٹھویں کلاس میں تھا تو مجھے وقف کا صحیح مفہوم معلوم ہوا۔ہم اُس وقت کوئٹہ میں تھے جبکہ میں نے پہلی دفعہ وقف فارم پر خود دستخط کر دئیے۔چنانچہ جب میٹرک میں میں نے فرسٹ ڈویژن حاصل کی تو مجھے چند احباب سے یہ سُن کر بہت تعجب ہوا اور افسوس بھی کہ اُن کے خیال میں اب میں جامعہ میں داخل نہیں ہوں گا۔گویا اُن کے نزدیک جامعہ میں وہی لڑکے آتے ہیں جن کو کوئی نوکری نہ ملتی ہو۔اس لیے میری احباب جماعت سے درخواست ہے کہ اچھے اور ذہین لڑکوں کو جامعہ میں زیادہ سے زیادہ بھجوائیں تاکہ سلسلہ کی خدمت کر سکیں اور جلد از جلد سیکھ کرمربی کا کام سرانجام دیں۔آخری ایام میں جب کبھی کوئی دل کے مرض کی وجہ سے فوت ہوتا تو والد صاحب مرحوم یہی کہا کرتے کہ اسی طرح میں نے بھی کسی روز چلے جانا ہے اور پتہ بھی نہیں چلے گا۔اسی طرح امی جان کو ایک دفعہ کہہ رہے تھے کہ اب میں نے چلے جانا ہے مگر صرف گگو ( ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ریاض ) کا فکر ہے کیونکہ وہ ابھی بہت چھوٹا ہے، ذرا بڑا ہو جائے تو پھر ٹھیک ہے۔“ 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی رات میں نے ایک خواب دیکھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ابا جان تقریر فرمار ہے ہیں اور سامنے کوئٹہ کی جماعت بیٹھی ہوئی ہے۔میں نے شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت کوئٹہ کو بھی دیکھا۔سب نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔چنانچہ والد صاحب نے تقریر کے شروع میں یہ کہا کہ یہ میری کوئٹہ جماعت میں آخری تقریر ہے۔اور پھر آپ نے ایک لمبی چوڑی تقریر کی جس کے سارے الفاظ میں نے اچھی طرح سنے اور مجھے تمام الفاظ بھی یاد تھے۔چنانچہ جب آپ نے یہ الفاظ کہے کہ " یہ میری آخری تقریر ہے اُس وقت خواب ہی میں مجھے سخت بے چینی ہوتی ہے اور میں بہت گھبراتا ہوں اور جب میں خواب سے بیدار ہو ا تو اُس وقت میری حالت رونے کی سی تھی اور سخت گھبرایا ہو ا تھا۔جیسے آج ضرور کوئی غیر معمولی بات ہونے والی ہے۔اور میں نے دل میں ارادہ کیا کہ میں روزانہ ابا جان کو دبایا کروں گا اور خدمت کروں گا۔چنانچہ صبح میں نے محسوس کیا کہ ابا جان مجھے بہت غور سے دیکھ رہے ہیں گویا کچھ کہنا