حیات شمس

by Other Authors

Page 608 of 748

حیات شمس — Page 608

حیات ہنس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 576 اور ہماری بہن ابھی پیدا ہوئی تھی مگر پھر بھی آپ انگلستان تشریف لے گئے اور پھر مسجد کے امام مقرر ہوئے اور بڑی تندہی سے کام کرتے رہے۔باہر بم پڑتے ، تو پہیں دندناتیں، گولیاں برستیں اور ہوائی حملے کے سائرن بجتے مگر آپ مسجد کے اندر خدا تعالیٰ پر توکل کئے ہوئے اپنے کام میں مشغول رہتے اور یہی پڑھتے له ربّ كلّ شي خادمک ربّ فاحفظني وانصر نی وارحمنی۔آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ مسجد کے چاروں طرف ہم پڑتے تھے مگر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسجد محفوظ رہتی۔چونکہ ابا جان انگلستان میں تھے اور میری بہن نے ابا جان کو نہیں دیکھا تھا تو وہ امی جان کر کہا کرتی کہ ایسے جئے ابا نال شی ویاہ ای کیوں کیتا سی؟ چنانچہ حضور نے بھی اپنی ایک تقریر میں فرمایا کہ ہمارے پاس ایسے مبلغ ہیں کہ جن کی بچیاں یہاں تک کہتی ہیں کہ کسی ایسے جئے ابا نال ویاہ ای کیوں کیتا سی جہمیٹرے آندے ای نہیں نیں۔“ اسی طرح چونکہ میرے بڑے بھائی جان بھی جب کہ ابا جان انگلستان گئے چھوٹے ہی تھے اس لئے وہ امی جان سے پوچھا کرتے کہ امی ! سچ بتائیں کہ ابا جان ہیں بھی کہ نہیں ؟ روزانہ مجھے لڑکے چھیڑتے ہیں کہ تمہارے ابا تو ہیں ہی نہیں۔تو امی سمجھا تیں کہ پھر خط کہاں سے آتے ہیں؟ تو وہ خوش ہو جاتے مگر صد افسوس کہ آج ایسا نہیں۔آج ہم حقیقتا یتیم ہو گئے ہیں مگر ہمیں خدا تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ ہمیں بے سہارا نہیں چھوڑے گا بلکہ اپنا سایہ ہمارے سروں پر رکھے گا۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔والد صاحب مرحوم نے بڑی بڑی اور مشہور شخصیتوں تک بھی پیغام احمدیت پہنچایا جن میں شاہ فیصل بھی شامل ہیں۔آپ نے بہت سے معرکۃ الآراء مناظرے کئے۔چھوٹی عمر میں ہی مناظرے شروع کر دیئے تھے۔روشن فکری اور حاضر جوابی بہت تھی۔حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہان پوری اکثر سُنایا کرتے کہ: ایک جگہ عدالت میں ہم نے کتابوں سے حوالہ جات پڑھ کر سُنانے تھے مگر شاید کسی کتاب کا نام درج نہ کیا تھا۔تو جب پوچھا گیا تو اُس وقت تمس صاحب بولے کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ یہ اسلامی ملک ہے اور یہاں مسلمان رہتے ہیں یہ کتاب مل جائے گی مگر ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ کتاب یہاں بھی نہ ہوگی اس لئے ہمیں مہلت دیجئے کہ ہم کتاب منگوا کر داخل کروا دیں۔چنانچہ اس طرح موقعہ مل گیا۔“ بچپن کی بات ہے مجھے یاد ہے کہ ہم ریلوے اسٹیشن کے قریب رہا کرتے تھے۔اس زمانہ میں میں بہت زیادہ نمازیں پڑھا کرتا تھا اور پانچوں وقت اذان مسجد میں جا کر دیا کرتا تھا۔حالانکہ میں چھ سات سال کا بچہ تھا اور ابھی نماز کا وقت بھی نہ ہوتا تو میں اذان دے دیا کرتا تھا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے میں نے