حیات شمس — Page 604
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 572 ایام میں خصوصاً درس سے مستفید ہونے کی توفیق ملی جس کا اثر آج تک میرے دل پر ہے۔آپ کی نہایت شیریں، دلکش اور پُر سوز آواز میرے کانوں میں میٹھا میٹھا رس گھولتی۔آپ کے یہ شیریں پُر از معرفت اور دلر با درس دلوں پر عجیب کیف اور سرور کا اثر چھوڑتے۔ان کو قدرت نے ایسا خداداد رعب ودیعت فرما رکھا تھا اور وہ کچھ اس دلآویز انداز سے اپنے مضمون کو شروع فرماتے کہ سننے والوں پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔آپ سلسلہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں کوشاں رہتے اور ہر کام کو بڑی دلجمعی اور بڑی تندہی سے سرانجام دیتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ آپ رات دن سلسلہ کے کاموں میں مصروف رہتے تھے۔دل میں ایک ہی لگن تھی کہ ہر انسان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لے آئے۔تاریخ آپ کے سنہری کارناموں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔آپ کی بے شمار خوبیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔آپ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔آپ اعلیٰ اخلاق کے مالک ، بڑے وضعدار، بڑے ہی پارسا ، حد درجہ بنی، بے حد ہمدرد، بڑے دعا گو، نہایت سادہ مزاج، بارعب، عالم و فاضل، عشق رسول میں فنا اور ہر ایک سے نہایت خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔آپ حق کا اظہار کرنے سے کبھی رکتے نہ تھے اور بڑی سے بڑی طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔یہی وجہ تھی آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ” خالد“ کے لقب سے نوازا۔آپ نے اپنے شفیق استاد حضرت علامہ حافظ روش علی کے آخری پیغام کو جو بطور وصیت انہوں نے اپنی وفات سے قبل اپنے شاگردوں تک پہنچایا تھا کہ ” میرے شاگرد ہمیشہ تبلیغ کرتے رہیں عملی جامہ پہنایا۔انہوں نے سمجھا کہ سلسلہ کا تمام تر کام میرا اپنا ہی کام ہے اور آخری دم تک اس اہم ذمہ داری کو (ماہنامہ الفرقان، جنوری 1968ء) نہایت خوش اسلوبی سے نباہتے چلے گئے۔میرے شفیق باپ ( مولانا خواجہ منیر الدین صاحب شمس ابن حضرت مولانا شمس صاحب متعلم جامعہ احمد یہ ربوہ ) نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ خَيْرُ كُمْ خَيْرُ كُمْ لا هَلِهِ وَأَنَا خَيْر كُم لَا هَلِی کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہو اور میں تم میں سے اپنے اہل کیلئے سب سے بہتر ہوں۔یعنی اس کی گھر میلو زندگی نہایت خوشگوار ہو اور اولاد کی تربیت کی طرف اسے دھیان ہو۔میں یہاں سے ہی ابتداء کرتا ہوں۔والد صاحب گھر میں ہر ایک سے نہایت شفقت سے پیش آتے تھے اور محبت کا سلوک کرتے تھے۔جب کبھی ہم آپس