حیات شمس — Page 603
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 571 حضرت ابا جان بہت سادہ اور صاف گوانسان تھے۔ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے اور اپنے ماتحتوں سے ہمدردی کا سلوک کرتے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیماری کے ایام میں آپ خطبہ جمعہ بھی دیا کرتے تھے اور عموماً آپ اصلاحی پہلو کی طرف ہی توجہ دلایا کرتے تھے۔ان کی اچانک وفات سے ہمیں بہت نقصان ہوا ہے۔ہمارا خاندان ایک عظیم بزرگ شخصیت سے محروم ہو گیا اور ہم ان کی دعاؤں سے محروم ہو گئے۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب رکھے۔آمین ثم آمین۔(الفضل ربوہ 20 دسمبر 1966ء) سلسلہ احمدیہ کے جرنیل محترمہ فوزیہ میر صاحبہ بنت جناب میر ظفر علی صاحب وزیر آباد ) یوں تو یہ سلسلہ ازل سے چل رہا ہے اور ابد تک چلتا رہے گا۔ہر ایک انسان نے مرنا ہے۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ہمارے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جید عالم، زبردست ستون اور بڑے بہادر جرنیل تھے جن کی وفات کا صدمہ جانکاہ ابھی تک تازہ ہے۔یوں ہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا شمس ابھی ہمارے درمیان موجود ہیں اور واقعہ میں موجود ہیں گو بظاہر ہماری مادی آنکھوں سے اوجھل ہو چکے ہیں کیونکہ جس شخص نے مقام شہداء کا بلند مرتبہ پایا اس کا نام رہتی دنیا تک زندہ ہے اور وہ یقینا زندہ ہے۔آپ کا نام اور کام تا قیامت زندہ رہے گا انشاء اللہ تعالیٰ لیکن آپ کی یاد کا زخم وقت بھی مندمل نہیں کر سکتا کیوں کہ وقت کے ہاتھوں یہ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔پھر ایسا کیوں نہ ہو، زندہ تو میں اپنے مشاہیر کی یاد کو ہمیشہ ہمیش تازہ رکھتی ہیں اس لئے کہ ایسی ہستیاں صدیوں کے بعد پیدا ہوتی ہیں اور اپنے وقت پر سورج کی طرح روشن ہو کر ایک دنیا کو منور کر دیتی ہیں تو ایسی گھٹا ٹوپ تاریکی چھوڑ جاتی ہیں جہاں دُور دُور تک روشنی کے سائے بھی نظر نہیں آتے۔ایسا ہی مولانا کی وفات سے جو خلا جماعت میں پیدا ہوا اس کا پُر ہونا بہت دشوار ہے۔آہ کیسی پیاری ہستی تھی جو ہم سے بہت جلد روپوش ہوگئی۔خاکسارہ نے حضرت مولانا شمس کو سب سے پہلے 1964ء کے ماہ دسمبر میں منعقد ہونے والے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر دیکھا جس پر آپ کی تقریر سننے کا بھی مجھے اتفاق ہوا۔پھر دوبارہ 1965ء میں مولانا مرحوم کو قریب سے دیکھنے اور تقریر دلپذیر سننے کا ایک دفعہ پھر موقعہ میسر آیا۔علاوہ اس کے جلسہ کے