حیات شمس — Page 602
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 570 تھے۔بچپن سے ہی طبیعت میں نرمی ، شرافت اور شفقت بھری ہوئی تھی۔اپنے بہن بھائیوں سے بہت محبت رکھتے تھے اور ہر ایک کا خیال رکھتے تھے۔سکول کے زمانہ میں جب آپ قادیان سے سیکھواں جاتے تو سب کیلئے ضرور کچھ نہ کچھ خرید کر لے جایا کرتے تھے۔آپ نے مدرسہ احمد یہ قادیان میں دینی تعلیم حاصل کی۔بچپن میں ہی زندگی اسلام کیلئے وقف کر دی۔جون 1925ء میں آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے دمشق تبلیغ کی غرض سے بھیجا جہاں آپ نہایت کامیابی سے فرائض سر انجام دیتے رہے۔قریباً دو سال کے قیام کے بعد آپ پر کسی نامعلوم شخص نے خنجر سے حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت مصلح موعود کی دعاؤں کے طفیل آپ شفایاب ہو گئے۔اس اثناء میں وہاں مکرمی منیر احصنی صاحب احمدیت میں داخل ہو گئے۔ان کا خاندان بہت معزز ہے۔اس طرح سرزمین دمشق میں احمدیت کا بیج بو دیا گیا۔اس وقت حکومت نے آپ کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ آپ وہاں سے حضرت مصلح موعود کی اجازت اور ارشاد کے مطابق فلسطین تشریف لے گئے اور وہاں حیفا میں نیا مرکز قائم کیا۔اس طرح کہا بیر کے مقام پر ایک احمدیہ مسجد تعمیر ہوئی جس کی بنیاد حضرت ابا جان نے رکھی۔یہاں کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مخلص ہے۔اس کے بعد آپ واپس قادیان تشریف لے آئے۔میں جب دو سال کا تھا تو ابا جان حضرت مصلح موعود کے ارشاد کے مطابق لندن تشریف لے گئے اور محترم مولانا عبد الرحیم درد صاحب کی واپسی پر آپ وہاں کے امام مسجد مقرر ہوئے۔دوسری جنگ عظیم کا زمانہ آپ نے وہیں گزارا۔اس دوران بمباری ہوا کرتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رکھا۔مشن ہاؤس سے بہت ہی قریب بم گرتے رہے حضرت مصلح موعود اور دیگر احباب کرام کی دعاؤں کے طفیل آپ بالکل محفوظ رہے۔ابھی آپ لندن میں ہی تھے کہ میرے دادا جان کی قادیان میں وفات ہوگئی اور انہیں یہ صدمہ پردیس میں ہی برداشت کرنا پڑا۔قادیان میں واپسی پر آپ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر میں کام کرتے رہے۔انقلاب 1947ء کے موقع پر جب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لاہور تشریف لے آئے تو آپ کو قادیان کی جماعت کا امیر مقرر کیا گیا۔آپ وہاں سے اکتوبر 1947ء میں لاہور تشریف لائے۔لاہور میں آنے کے بعد آپ صدرانجمن احمدیہ کے دفاتر میں مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ربوہ کی بنیاد پڑنے پر آپ یہیں آگئے اور تاوفات و ہیں قیام پذیر رہے۔