حیات شمس — Page 585
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس سورج کی کرنیں 553 مکرمہ نسیم اکبر صاحبه وزیر آباد) 1965ء کے جلسہ سالانہ ربوہ پر حضرت مولانا شمس صاحب مرحوم نے احمدی خواتین کے جلسہ میں جو تقریر فرمائی تھی اس سے متاثر ہو کر ایک احمدی خاتون نے محترم شمس صاحب مرحوم کے نام مندرجہ ذیل خط لکھا: السلام علیکم ورحمة الله و بركاته جلسه سالانه پوری آب و تاب کے ساتھ آیا اور روحانی اور دائمی خوشیاں لٹاتا ہوا چلا گیا۔الحمد للہ۔آپ کی تقریر کے متعلق پہلے تو پتہ چلا کہ بذریعہ ٹیپ سنائی جائے گی مگر بعد میں اعلان ہوا کہ آپ خود تشریف لا کر تقریر کریں گے۔خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا تعالیٰ نے ہماری دعا سنی اور ہمارے ایمانوں کو تازہ کرنے کیلئے آپ جیسے عظیم الشان انسان تشریف لا رہے ہیں۔تقریر کے دوران اچانک آپ کی پچھلی جانب نظر پڑی تو عجیب ایمان افروز نظارہ دیکھ کر دل خدا تعالیٰ کی حمد کرنے لگا۔سورج کی کرنیں آپ پر اس طرح پڑ رہی تھیں جیسے انسان کی صورت کا عکس شیشے پر پڑتا ہے اور ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے شمس کی کرنیں ہمارے دلوں کو منور کر رہی ہیں۔اللہ اللہ ! خدا تعالیٰ کی قدرتوں پہ قربان جس نے ہمارے سلسلے میں اتنی عظیم الشان الفضل ربوہ 20 اکتوبر 1966ء) شخصیتیں پیدا کر دیں۔دلچسپ یادیں مکرم ملک منصور عمر احمد صاحب، مربی سلسلہ احمدیہ ) حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ، حضرت مولانا ابوالعطاء اور حضرت قاضی محمد نذیر لائلپوری ایک Batch کے تین بزرگان تھے۔ہرسہ بزرگ چوٹی کے مناظر اور مقرر تھے۔تقویٰ اور علم کے بلند مقام پر فائز تھے۔تینوں ناظر اصلاح وارشاد بھی رہے ہیں۔میں نے ایک دفعہ ان تینوں بزرگان کو دیکھا کہ شیروانی پہنے ہوئے سائیکلوں پر بیت العطاء کی طرف جارہے ہیں۔یہ نظارہ بھی بہت اچھا لگا۔حضرت مولانا شمس صاحب کا خطبہ یا تقریر نہایت سادہ اور عام فہم ہوتی تھی۔آپ میانہ قد ، نورانی چہرہ