حیات شمس — Page 584
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 552 مجھے مشرقی افریقہ میں اپریل 1962ء سے 1988 ء تک خدمات بجالانے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔1964ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار تھے۔پاکستان سے ایک دوست نے مشرقی افریقہ میں اپنے بھائی کو خط لکھا۔انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ جماعت کا کیا ہوگا تو ہی ہمارے امام کو شفا عطا فرما۔لمبی دعاؤں کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں رویا میں بتایا کہ جلال الدین شمس“۔انہوں نے یہ خواب مشرقی افریقہ میں مقیم اپنے بھائی احمدی صاحب کو لکھ دی۔احمدی صاحب نے وہ خط میرے سامنے رکھ دیا کہ انہوں نے یہ خواب بتائی ہے۔میں نے انہیں سختی سے منع کر دیا کہ ہر گز بھی اس خواب یا خط کا کسی سے ذکر نہیں کرنا اور خاموشی اختیار کریں۔اس کو صندوق میں بند کر کے محفوظ رکھیں۔ایک خلیفہ کی موجودگی میں ایسی باتیں پھیلا نا مناسب نہیں۔اگلے سال 1965ء میں خاکسار رخصت پر ربوہ آیا۔سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا۔خلاف ثالثہ کا انتخاب ہوا۔خاکسار بھی وہاں موجود تھا۔جب انتخاب ہو گیا تو اس تاریخی موقع پر مسجد مبارک میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ایک مختصر سی تقریر کی اور بیان کیا کہ کراچی سے مجھے ایک دوست نے خط لکھا تھا کہ ” مولوی جلال الدین شمس، خلیفہ ثالث منتخب ہو گئے ہیں۔میں نے اسی وقت انہیں جواباً لکھ دیا تھا کہ اس سے ہر گز بھی یہ مطلب نہ لے لینا کہ میں خلیفہ بنوں گا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو بھی خلیفہ منتخب ہوگا اس کی برکت و تاثیر سے دین کا جلال ظاہر ہوگا اور کہ دین کائٹس طلوع ہوگا۔مجھے مولانا کی یہ بات سن کر خط والی ساری بات یاد آگئی کہ یقیناً یہ خط انہوں نے ہی لکھا ہوگا اور یہ بات درست نکلی۔یہ مولانا صاحب کی فراست خداوندی تھی کہ ایک لمحہ کیلئے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ شاید یہ خواب میرے متعلق ہو۔مجھے ایک بات یاد آئی کہ افریقہ میں ایک احمدی حسن توفیق سلیم تھے۔انہوں نے جب مولانا شمس صاحب کی کتاب ? Where Did Jesus Die کا مطالعہ کیا تو مجھے کہنے لگے کہ یہ کتاب علمی اور تحقیقی تو ہے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لکھنے والے ایک ولی اللہ ہیں۔میں نے عرض کیا کہ آپ کا مشاہدہ بالکل درست ہے وہ واقعی خدا داد بزرگ ہیں۔