حیات شمس — Page 583
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس قابل رشک تھی اور جس کی وفات بھی قابل رشک۔551 ان کی اقتداء میں باجماعت نماز کی ادائیگی میں ایک خاص لذت حاصل ہوتی تھی۔ان کی تلاوت میں ایک عجیب روحانی کیفیت ہوتی کتنی ہی لمبی لمبی سورتیں انہیں از بر تھیں۔وہ روزانہ نمازوں میں احادیث میں بیان فرمودہ ہدایات کے مطابق قرآنی سورتوں کا انتخاب کرتے۔ان کی وفات کا صدمہ اب تک ہمارے دلوں میں گہرا اثر چھوڑے ہوئے ہے۔ان کی وفات کے واقعہ پر یقین کرنے کو دل تو نہیں چاہتا لیکن قدرت کے اٹل قانون کے آگے کسے دم مارنے کی ہمت ہے۔سو ہم بھی خدا تعالیٰ کی مشیت کے آگے جھکتے ہیں اور راضی برضا ہوتے ہیں۔نامور مبلغ ( خالد احمدیت جلد اول مرتبه عبد الباری قیوم، جلد اول صفحات 14-15) ( حضرت مولوی محمد الدین صاحب سابق صدر صدرانجمن احمدیہ ) آپ کو صحابی ابن صحابی ہونے کا فخر حاصل تھا۔بطور نامور مبلغ اور مجاہد اسلام آپ کی خدمات جلیلہ آنے والی نسلوں کیلئے شاندار نمونہ پیش کرتی ہیں۔بلا د عر بیہ اور انگلستان میں بھی اسلام کی سربلندی اور احمدیت کی اشاعت میں ایک طویل عرصہ گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔آپ متبحر عالم، بلند پایہ مصنف فصیح مقرر اور جزار مناظر اسلام تھے۔اپنی خوبیوں کی بدولت آپ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ے خالد کا خطاب پایا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ابتداء عہد خلافت سے لے کر اب تک لمبی خدمات دینیہ کی سعادت بخشی۔(الفضل ربوہ 22 اکتوبر 1966ء) خداداد نور فراست مکرم مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق ، تاثرات مئی 2005ء) زمانہ طالب علمی میں میں بسا اوقات علمی مسائل سمجھنے کی غرض سے حضرت مولانا شمس صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔آپ انتہائی خاکسار اور بے نفس انسان تھے۔عجب اور خود پسندی بالکل بھی آپ کو پسند نہ تھی۔آپ کی تقاریر وخطابات تحقیقی اور علمی تو ہوتی ہی تھیں اس کے ساتھ ساتھ روحانیت کی ایک رو چلتی تھی جس کی تاثیرات دلوں کو گرما دیا کرتی تھیں۔