حیات شمس — Page 562
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 530 غور کرنے کا یہ مقام ہے اور ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو نظر انداز کر کے ہمیں اس گروہ میں شامل کرے جو خالد بننے والے ہیں جو اس کی نگاہ میں خالد قرار دیئے جانے والے ہیں اور جو اس کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے والے ہیں۔جن کی تقریروں اور تحریروں میں خدا تعالیٰ اپنے فضل سے برکت دینے والا ہے، جن کی تقریروں اور تحریروں سے دنیا فیض حاصل کرنے والی ہے دنیا سکون حاصل کرنے والی ہے، دنیا ان راہوں کا عرفان حاصل کرنے والی ہے جو راہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہیں۔جانے والا ہمیں بہت پیارا تھا لیکن جس نے اسے بلایا وہ ہمیں سب دنیا سے زیادہ پیارا ہے ہم اس کی رضا پر راضی ہیں اور ہم اس پر کامل تو کل اور بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے اس جانے والے بھائی سے پیار اور محبت کا سلوک کرے گا۔اور اس سے یہ امید رکھتے ہیں کہ جب ہماری باری آئے اور ہمیں اُس طرف سے بلاوا آئے تو وہ ہم سے بھی محبت اور پیار کا سلوک کرے گا۔پھر ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس جماعت میں ہزاروں مخلص نو جوان پیدا کرتا چلا جائے کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں تو ان کے ساتھ بھی محبت، پیار کا سلوک ہو جو محبت کا اور پیار کا سلوک شمس صاحب کو ملا۔جو محبت اور پیار کا سلوک میر محمد اسحق صاحب کو ملا۔جو محبت اور پیار کا سلوک حافظ روشن علی صاحب کو ملا اور جو محبت اور پیار کا سلوک مولوی عبد الکریم صاحب کو ملا۔رضوان الله عليهم - اللهم آمین۔روزنامه الفضل ربوہ 19 اکتوبر 1966ء)