حیات شمس

by Other Authors

Page 550 of 748

حیات شمس — Page 550

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس صاحب اور مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری خاص طور پر ذکر کے قابل ہیں۔اس وقت ویسٹ افریقہ کے ایک نمائندہ دوستوں کے سامنے پیش ہو چکے ہیں اور اُنہوں نے اپنی زبان سے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو کس طرح پورا کیا۔غرض جماعت کی قلت اور اس کی غربت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کو پورا کیا اور اس نے میرے ذریعہ سے دنیا کے کناروں تک اسلام اور احمدیت کا نام روشن کیا۔“ 518 الموعود، انوار العلوم ، جلد 17 صفحہ 576-577) مغرب سے طلوع شمس کے متعلق رسول کریم صلعم کی ایک پیشگوئی 16 اکتوبر 1946 ء بعد نماز عصر جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ قادیان کے طلباء نے حضرت مولانا شمس صاحب کی انگلستان سے کامیاب مراجعت اور مکرم جناب منیر آفندی الحصنی امیر جماعت احمدیہ دمشق کی تشریف آوری پر ایک چائے کی دعوت دی جس میں سید نا حضرت مصلح موعودؓ نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے پر معارف خطاب میں فرمایا: چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہونے والا ہے اس لئے میں بہت مختصر تقریر کروں گا۔میں اس وقت صرف ایک بات کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔باتیں تو کئی تھیں مگر چونکہ نماز کا وقت تنگ ہے اس لئے میں صرف اس امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کے کلام کے کئی بطن ہوتے ہیں اور ہر بطن اپنے اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے متعلق فرمایا کہ اس کے سات بطن ہیں اور سات بطنوں میں سے آگے ہر بطن کی الگ الگ تفاسیر ہیں۔اسی طرح ایک ایک آیت سینکڑوں اور ہزاروں معانی پر مشتمل ہے۔غلطی سے مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا ہے که قرآن کریم صرف چند تفسیروں میں محصور ہے۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہر معنی جو عربی زبان سے درست ثابت ہوتے ہیں، ہر معنی جسے عربی صرف و نحو برداشت کرتے ہیں اور ہر معنی جو قرآن کریم کی ترتیب سے نکلتے ہیں، وہ درست اور صحیح ہیں کیونکہ اگر وہ معنی خدا تعالیٰ کے مد نظر نہ ہوتے تو وہ ان معنوں کی ضرور تردید کرتا اور ایسے لفظ نہ بولتا جن سے نئے معنے تو پیدا ہوتے مگر وہ معنے اللہ تعالیٰ کے منشاء یا انسانی عقل کے خلاف ہوتے۔بہر حال اس موقعہ