حیات شمس — Page 505
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس پھر 29 جولائی 1897ء کو آپ نے یہ خواب دیکھا: 473 ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اس نے کوئی نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور میں اس کو دور سے دیکھ رہا ہوں اور جبکہ وہ قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے۔پھر بعد اس کے میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا۔ما هذا الا تهديد الحکام۔یعنی یہ جو دیکھا اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہوگی۔اس سے زیادہ کچھ نہیں تریاق القلوب صفحہ 91۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 341) ہوگا۔“ نیز آپ کو الہام ہوا: مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق۔( اور پھر اخير حكم ابراء یعنی بے قصور ٹھہرانا۔( تریاق القلوب صفحہ 91۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 342) یہ الہامات اس طرح پورے ہوئے کہ ایک نوجوان لڑکے عبد الحمید کو چند عیسائی پادریوں نے ڈرادھم کا کر اس سے یہ کہلوایا کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو جو ایک عیسائی مشنری اور آتھم کے مباحثہ میں اس کا دست راست اور خاص معاون و مددگار تھا قتل کرنے کے لیے بھیجا ہے۔چنانچہ یکم اگست 1897ء کو ڈاکٹر مذکورمسٹراے ای مارٹینو نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی عدالت میں اس مضمون کی ایک درخواست دی کہ ایک نوجوان عبد الحمید نامی کو مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر نے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کیا مگر بعد ازاں یہ معلوم کر کے کہ اس کو اختیار قانونی حاصل نہیں ہے اس نے وارنٹ منسوخ کر کے کاغذات مقدمہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور کے پاس بھیج دیئے اور اس وقت اس عہدہ پر کیپٹن ڈگلس تھے جو اب کرنیل ہیں اور آج کی میٹنگ کے صدر ہیں۔عبد الحمید نے اُن کے سامنے بھی پہلے وہی بیان دیا جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کے روبرو دیا تھا۔اس کے متعلق کرنیل ڈگلس کے فیصلہ سے چند فقرات یہ ہیں۔اس مقدمہ کی ساری کارروائی کی مصدقہ نقل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف کتاب البریہ میں درج کی ہے۔فیصلہ اور گواہوں کے بیانات کے اقتباس اسی سے لیے گئے ہیں۔)