حیات شمس

by Other Authors

Page 481 of 748

حیات شمس — Page 481

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 465 درد صاحب نے ان کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈگلس صاحب کہتے ہیں کہ یہ مقدمہ بھی دوسرے مقدموں کی طرح عام مقدمہ ہے جس کا انہوں نے حسب عادت فیصلہ کر دیا مگر اب وہ خواہ جتنی ہی خاکساری یا انکساری سے کام لیں لیکن پیلاطوس کا لقب جو انہیں دیا جا چکا ہے اسے کب خیال تھا کہ اس کا ذکر دنیا کے سب کو نوں میں کیا جائے گا۔اسے یہ خیال ہوتا تو وہ ضرور استقامت اور شجاعت سے کام لیتا اور کبھی بزدلی نہ رکھتا اسی طرح کا یہ مقدمہ تھا جس میں کرنل صاحب نے عدل کی ایک شاندار مثال قائم کی اور پیلا طوس کا خطاب حاصل کیا ویسے خطاب بھی بغیر امیدوں کے ہی ملا کرتے ہیں۔کیا کرنل صاحب کو اُس وقت یہ خیال ہو سکتا تھا کہ اس مقدمہ کا ذکر انہیں پھر کرنا پڑے گا اور خاص کر لنڈن کے انگریز مردوں اور عورتوں کے جلسہ میں۔جب یہ مقدمہ ہو اتب جماعت نہایت قلیل تعداد میں تھی لیکن اب بفضل خداد نیا کے تمام گوشوں میں پھیلی ہوئی ہے۔جہاں جہاں جماعت احمدیہ قائم ہے وہاں وہاں اس مقدمہ کا ضرور ذکر کیا جائے گا۔کرنل صاحب نے مجھ سے دریافت کیا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے متعلق انہوں نے جو الفاظ کہے تھے اور جو مولوی شیر علی صاحب نے بیان کئے ہیں وہ نا مناسب تو نہیں تھے؟ میں نے کہا اگر آپ اس سے زیادہ سخت الفاظ بھی استعمال کرتے تو وہ جائز تھے کیونکہ اس سے کمینہ شخص کون ہوسکتا ہے جو عدالت میں آکر اپنے کھڑے رہنے کو تو ہین خیال کر کے کرسی طلب کرے اور پھر جھوٹ بول کر کہ مجھے اور میرے باپ کو عدالت میں کرسی ملا کرتی تھی کرسی لینے کی کوشش کرے۔ضلع گورداسپور کے موجودہ حکام کرنل ڈگلس صاحب کے عدل وانصاف کا ذکر کر رہے ہیں۔ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اس وقت اسی ضلع میں کرنل صاحب کی جگہ جو آفیسر کام کر رہے ہیں انہوں نے نہایت غیر منصفانہ کارروائیاں کی ہیں۔در حقیقت گورنمنٹ برطانیہ کے ہندوستان میں استحکام میں گورنمنٹ اسے مانے یا نہ مانے کرنل ڈگلس جیسے انصاف پسند اشخاص کا ہاتھ تھا جن کے انصاف نے لوگوں کے دلوں میں گورنمنٹ کی محبت بٹھادی۔لیکن ضلع گورداسپور کے موجودہ حکام جیسے آفیسراب گورنمنٹ کی محبت کو دلوں سے نکالنے کا باعث ہو رہے ہیں۔بہر حال با وجود تمام مخالفتوں کے کرنل ڈگلس کا فیصلہ انکی جیسی عدل و انصاف پسندی کی وجہ سے تھا، جو قابل تعریف ہے۔کرنل صاحب کے متعلق سید نا حضرت مسیح موعود کی دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں برکات عطا فرمائے۔