حیات شمس — Page 442
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 426 اور ابھی چالیس پچاس ہزار کے قریب چھپا تھا کہ جنگ کا اعلان ہو گیا۔میں نے اس خیال سے کہ اب جنگ میں اس کا تقسیم ہونا ناممکن ہوگا مطبع والوں سے کہا کہ اس کا چھاپنا بند کر دیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ کاغذ وغیرہ خریدا جا چکا ہے اور اجرت مطبع میں بہت تھوڑی سی تخفیف ہوگی اس لئے بہتر ہے کہ سارا چھپوالیں۔چنانچہ انہوں نے ایک لاکھ اشتہار چھاپ دیا جو مکان میں پانچ پانچ ہزار کے بنڈلوں کی صورت میں رکھا گیا۔چار ہزار جو پہلے اشتہار چھپوایا گیا تھا صرف وہی تقسیم کیا گیا۔جنگ کے چھ سال ختم ہو گئے اور اس اشتہار کی تقسیم جس کیلئے کئی اشخاص کی ہمت درکار تھی خدا نے یہ سامان کیا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے 13 مبلغین کو لنڈن روانہ کیا تاوہ لنڈن ٹھہر کر مختلف ممالک کی زبانوں سے ابتدائی واقفیت حاصل کر لیں۔ان مبلغین کی قسمت میں تھا کہ وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا خواہش کے پورا کرنے میں حصہ دار بنیں۔دوسری بات جو اس اشتہار کی تقسیم کیلئے ضروری تھی وہ ایک ایسی کتاب کا موجود ہونا تھا جس میں مسیح کے صلیبی موت سے نجات پانے اور پھر ہندوستان جانے اور وہاں دفن ہونے کے متعلق تفصیلی بحث ہو۔سواس کیلئے اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو توفیق بخشی کہ اس مضمون پر میں ایک کتاب لکھوں۔چنانچہ مبلغین کے پہنچنے پر وہ کتاب بھی چھپ گئی اور اشتہار کی تقسیم شروع ہوئی۔نو دس مبلغین کا لنڈن کے مختلف محلوں میں جا کر اشتہار تقسیم کرنا اہل لنڈن کیلئے ایک عجیب و غریب بات تھی۔مبلغین کی آمد پر یہاں کے پریس میں کافی چرچا ہو چکا تھا۔ڈیلی سکچھ نے مبلغین کے پہنچنے پر ایک نوٹ لکھا۔ڈیلی سٹار نے سب مبلغین کی ایک فوٹو شائع کی نیز مختلف نیوز ایجنسیوں نے انٹرویو لئے جس سے دنیا کے مختلف گوشوں تک سلسلہ کا ذکر پہنچا اور فوٹو شائع ہوئے۔چنانچہ ہندوستانی ، امریکن، کینیڈین ، فرنج ، عربی اخبارات کے ہمارے پاس Cuttings پہنچے ہیں جن میں مبلغین کا فوٹو دیا گیا اور ان کا ذکر شائع ہوا۔جب اشتہارات کثرت سے تقسیم کئے گئے تو بعض رسائل اور اخبارات کے ایڈیٹروں نے اس کے متعلق تفصیلات چاہیں جنہیں میری کتاب ? Where did Jesus die بھیجی گئی۔اخبارات میں اس کے متعلق جو وقتا فوقتاذ کر شائع ہوا۔بعض اخبارات میں تو قبر مسیح کے متعلق نوٹ شائع ہونے کے بعد اخبار میں حضرات کی طرف سے خطوط شائع ہوتے رہے جن میں سے بعض ہماری تائید میں تھے اور بعض مخالف۔چرچ والوں میں ایک اضطراب پیدا ہوا۔چنانچہ بشپ آف لنڈن کو اپنی ایک تقریر میں یہ کہنا پڑا کہ یہ خیال کہ ہم ہی مشنری ہیں اور ہم مذہبی تبلیغ کرنے والے ہیں، درست نہیں بلکہ ہمارے