حیات شمس — Page 441
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 425 دعاؤں میں یا درکھیں کیونکہ یورپ میں کسی عظیم الشان تغیر کا پیدا ہونا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی جلوہ نمائی کرے اور اس کے حصول کیلئے جس قدر دعاؤں کی ضرورت ہے وہ ظاہر وباہر ہے۔آج جبکہ ہمارا جہاز Sobski سرزمین انگلستان سے ہرلمحہ دور ہورہا ہے میں اپنی دس سالہ زندگی کے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ کا ذکر کروں گا جس کیلئے میں اپنے قلب میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش کے پورا کرنے میں حصہ دار بنایا۔اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ اس طرح قائم رہا اور یہ کام جس کو مؤثر رنگ میں شروع کرنے کا اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے موقعہ عطا فرمایا اسی طرح جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جبکہ قصر عیسائیت میں ایک تنزل بر پا ہوگا اور سعید روحیں جوق در جوق عیسائیت کو خیر باد کہہ کر حلقہ بگوش اسلام ہوں گی۔یہی وہ کاری حربہ ہے جس سے صلیبی عقیدہ پاش پاش ہو جاتا ہے کہ مسیح صلیب پر سے زندہ اترے اور آخر کار کشمیر میں طبعی وفات پائی۔اس جگہ میں اختصار سے ان امور کا ذکر کرتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں الہی تصرف ہوا ہے۔مبلغین کے ذریعہ حضرت اقدس کی ایک خواہش کی تکمیل 1939ء میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ ذیل تحریر پڑھی: وو ” یورپ اور دوسرے ملکوں میں ہم ایک اشتہار شائع کرنا چاہتے ہیں جو بہت ہی مختصر ایک چھوٹے سے صفحہ کا ہوتا کہ سب اسے پڑھ لیں۔اس کا مضمون اتناہی ہو کہ مسیح کی قبر سرینگر کشمیر میں ہے جو واقعات صحیحہ کی بناء پر ثابت ہوگئی ہے۔اس کے متعلق مزید حالات اور واقفیت اگر کوئی معلوم کرنا چاہے تو ہم سے کرے۔اس قسم کا اشتہار ہو جو بہت کثرت سے چھپوا کر شائع کیا جائے۔“ الحکم قادیان مورخہ 10 جولائی 1901ء) جب میں نے یہ تحریر پڑھی تو اسی وقت میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ حضرت اقدس کی اس خواہش کو پورا کرنے کیلئے اس مضمون کا ایک اشتہار شائع کروں۔چنانچہ قبرمسیح کے فوٹو کے ساتھ تقریباً دواڑھائی سو الفاظ کا ایک اشتہار لکھا اور چار ہزار کی تعداد میں چھپوایا۔اس اشتہار کا ذکر الفضل میں پڑھ کر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے تحریک کی کہ ایک لاکھ کی تعداد میں اسے شائع کیا جائے اور اس کیلئے ان کی تحریک پر چند دوستوں نے مطلوبہ رقم پوری کر دی۔اشتہار چھپنے کیلئے میں نے مطبع میں دیدیا