حیات شمس — Page 418
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 402 مکرم جلال الدین شمس صاحب امام مسجد فضل لندن کی ان تھک کوششوں اور گراں مایہ خدمات کا ذکر نہایت محبت بھرے الفاظ میں کیا اور ان کی تکالیف ما لا يطاق کا ذکر کرتے ہوئے جو جناب شمس صاحب کو جنگ کی وجہ سے جھیلنی پڑ رہی ہیں اور جن کا آپ مردانہ وار مقابلہ کر رہے ہیں کا ذکر کیا۔آپ نے جناب شمس صاحب کی ہمت، لیاقت اور سلسلہ کی اشاعت کیلئے درد کی بہت تعریف کی اور خاص طور پر نو مسلم احمدیوں کی تربیت اور انہی رجحانات میں بتدریج تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ انگریزوں میں کس طرح اسلامی روح پیدا کر رہے ہیں اور ان سے احکام اسلام کی پابندی کرا رہے ہیں۔آپ نے اپنے لیکچر کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔اول اپنے مشن کی تبلیغی مساعی اور دوم انگلستان میں دیگر فرقہ ہائے اسلام کی حالت۔بعد میں آپ نے دونوں کا مقابلہ کر کے بتایا کہ صرف ہمارا ہی مشن ہے جو اسلام کے صحیح درد کو لے کر کام کر رہا ہے مگر باقی مسلمان اور ان کی تبلیغی کوششیں صرف برائے نام ہیں اس لئے بے اثر بھی ہیں۔آپ نے احمد یہ مشن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنگ سے قبل جب جناب شمس نے 1938 ء میں چارج لیا تو تبلیغی سرگرمیاں نہایت اعلیٰ پیمانے پر جاری تھیں۔پہلے سے ہفتہ وار میٹنگز ہوتی تھیں جن میں لوگ کثرت سے شامل ہوتے تھے لیکن جنگ چھڑتے ہی حالت نے پلٹا کھایا اور تبلیغی سرگرمیوں کو اس پیمانے پر جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔شدید بمباری کی وجہ سے لوگ شہروں سے بھاگ گئے ،ذرائع آمدروفت بند ہو گئے۔بلیک آؤٹ ہونے لگا اور لوگوں نے ہماری سرگرمیوں میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔آخر جب بمباری میں کمی ہوئی تو جناب شمس صاحب کو تمام کام نہایت ہی مخالف حالات میں از سرنو جاری کرنا پڑا۔مخالف حالات اس لئے کہ پہلے ہی وہاں کے لوگ مذہب سے بالکل بے بہرہ ہیں اور ہر چیز ، ہر خیال اور ہر نظریے کو مادی نقطہ نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہیں۔جنگ کے سلسلہ میں ان کی مصروفیت اور انہماک نے ان کی توجہ کو مذہب اور خصوصاً عیسائیت کے علاوہ دوسرے مذاہب سے بالکل ہٹا دیا۔جنگ کو تو چھوڑئے ، امن کے زمانہ میں بھی کسی شخص سے مذہب کے بارہ میں گفتگو کرنا سماجی نقطہ نگاہ سے باعث ننگ تصور کیا جاتا تھا۔بہر حال یہ نامساعد حالات تھے جن میں شمس صاحب نے کام دوبارہ جاری کیا اور انفرادی تعلقات پیدا کر کے لوگوں کی توجہ اسلام کی طرف پھیری۔انگلستان کی دوسری انجمنوں اور سوسائیٹیوں سے میل ملاپ پیدا کیا۔ان کے جلسوں میں شریک ہوئے۔لوگوں کو مسجد میں آنے کی دعوت دی اور پھر لٹریچر تقسیم کرنا شروع کیا۔اس کے علاوہ ہائیڈ پارک میں جلسے وغیرہ منعقد کئے گئے جن میں میر عبدالسلام صاحب بہت ممد