حیات شمس — Page 417
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 401 ایک نسخہ لائبریری کیلئے دیا جولائبریرین نے شکریہ کے ساتھ قبول کئے۔ایام زیر پورٹ میں جموں و کشمیر اور سر فیروز خان نون کو ایسٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے ریسپشن دیا گیا تھا جس میں آپ مدعو تھے۔مسلمانوں کے دوستوں کی ایک سوسائٹی بنائی گئی جس کے آنریری سیکرٹری مسٹر عبدالحمید ہوئے۔انہوں نے سوسائٹی کے اختتام پر Sauay ہوٹل میں لنچ دیا اور ڈون ٹرٹن (DawnTriton) نے صدارت کی وہی سوسائٹی کے چئیر مین بنائے گئے۔سر رائلڈ سٹار نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج کی مجلس میں سنی بھی ہیں شیعہ بھی حنفی بھی شافعی بھی اور احمدی بھی اور وہابی بھی۔حافظ و ہبہ اور ٹر کی سفیر بھی حاضر تھے۔اس کے ایک ہفتہ کے بعد آنریری سیکرٹری مسٹر عبدالحمید کے مکان پر فلائنگ بم پڑا وہ وفات پاگئے۔انا للہ۔مدیر الفضل تحریر کرتے ہیں : انگلستان تمام یورپ کیلئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی اس حیثیت سے بھی مولوی صاحب فائدہ اٹھاتے رہے۔چنانچہ پچھلے دنوں قبرمسیح کے متعلق آپ نے جواشتہار شائع کیا وہ قریباً یورپ کے ہر ملک تک پہنچا۔حال ہی میں آپ (مولانا شمس صاحب) کو ایک احمدی دوست برادرم مبارک احمد صاحب نے اٹلی سے لکھا تھا کہ اٹالین زبان میں اشتہار چھپوا کر بھیجا جائے۔انہوں نے اشتہار کی چھپوائی کی اجرت بھی بھیج دی۔چار صفحہ کا ایک اشتہار اٹالین ترجمہ کروا کر دو ہزار کی تعداد میں چھاپا گیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی اٹالین کو خوش خبری دی گئی۔جنگوں اور نئی دنیا کے متعلق بھی پیشگوئی کا ذکر کیا گیا۔پانچ سوروانہ کر دیا گیا۔ان کی وصولی کی خبر پر باقی بھی انشاء اللہ بھیج دیا جائے گا۔کارڈف سے ایک یہودی نے قبر سیح کے متعلق لکھا کہ اس نے وہاں اخبار میں اس کا ذکر پڑھا ہے۔اس کے چند نسخے مانگے جو اسے بھجوا دیئے گئے۔(الفضل قادیان 6 اکتوبر 1944ء) لندن میں اشاعت اسلام کیلئے مولانا صاحب کی گراں مایہ کوششیں تاثرات لیفٹینٹ سید ممتاز احمد شاہ صاحب، دہلی ) 23 جولائی 1944ء بوقت آٹھ بجے شام مجلس خدام الاحمدیہ دہلی کا جنرل اجلاس منعقد ہو ا جس میں لیفٹینٹ سید ممتاز احمد صاحب جو ساڑھے پانچ سال کے بعد انگلستان سے واپس آئے ہیں کا لیکچر انگلستان اور اسلام کے موضوع پر انگریزی زبان میں ہوا۔آپ نے تقریر میں نہایت دلچسپ پیرا یہ اور فصیح زبان میں انگلستان میں احمدیت کی تبلیغی سرگرمیوں ، ان کے اثرات اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور