حیات شمس — Page 387
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 371 بخش جواب نہیں دے سکتے۔میں نے کہا تو یہی حال بچوں کا بھی ہوگا۔جن کو آپ مذہبی تعلیم دیں گے وہ بھی بلوغت کو پہنچ کر ویسے ہی اعتراضات کریں گے۔آپ جب تک بڑوں کو مذہب پر کار بند کرانے کیلئے موجودہ زمانہ کی مشکلات کا حل اپنی مذہبی کتب سے پیش نہیں کرتے اور ایسا لٹریچر نہیں تیار کرتے جس میں ان اعتراضوں کا تسلی بخش جواب دیا گیا ہو اس وقت تک بچوں کو مذہبی تعلیم دینا کافی نہیں۔اس کے بالمقابل میں نے اسے اپنا نظام اور اسلامی تعلیم کا ہر پہلو میں مکمل ہونا بتایا اور تعلیم و تربیت اطفال کی اہمیت بھی بتائی۔اس نے لکھا کہ ملاقات سے بہت فائدہ ہوا اور بچوں کی مذہبی تعلیم دینے کا بہترین طریق جو مجھے معلوم ہوا، وہ یہی ہے کہ بچوں کو مذہبی تعلیم دی جائے اور دعائیں وغیرہ زبانی یاد کرائی جائیں۔گرجوں میں باقاعدہ لے جایا جائے۔والدین بھی انہیں اپنے ساتھ گرجوں میں لے جائیں اور جب وہ بڑے ہوں تو وہ اپنے مذہب کا دوسرے مذہب سے مقابلہ کر کے جو مذہب صحیح سمجھیں اسے اختیار کریں۔سرفضل بائی کریم بائی نے اپنے مکان پر کھانے کیلئے دعوت دی۔وہاں ان سے اور ان کے دوصا حبزادوں سے یا جوج ماجوج ، دجال ، عصمت انبیاء، مسیح ناصری کے معجزات اور مسیح موعود علیہ السلام کے کارناموں وغیرہ امور پر تین چار گھنٹہ تک گفتگو ہوئی۔جب میں واپس آنے لگا تو انہوں نے کہا کہ اسلام کی تائید میں ہم نے ایسی باتیں پہلے کبھی کسی عالم سے نہیں سنیں آپ نے تو ہم پر بہت احسان کیا ہے اور قادیان کی زیارت کا شوق دلا دیا ہے۔سر عزیز الحق ہائی کمشنر فار انڈیا کوئی پارٹی دی گئی جس میں ستر کے قریب حاضری تھی۔انہیں ایڈریس بھی دیا گیا جس کے جواب میں انہوں نے قادیان میں لڑکیوں اور لڑکوں کیلئے عام مروجہ تعلیم کے علاوہ دینی تعلیم کے انتظام پر خوشی کا اظہار کیا اور مسجد کو دیکھ کر کہا کہ خوبصورت اور شاندار ہے۔گزشتہ ماہ (اگست ) میں مسجد کو اندر سے پینٹ کرایا گیا جس پر چالیس پونڈ کے قریب خرچ آئے جس میں سے بیس پونڈ ڈاکٹر الحاج عمر سلیمان نے دیئے۔جزاہ اللہ احسن الجزاء۔ڈیوک آف کینٹ کی اچانک وفات پر جماعت احمدیہ گریٹ بریٹن کی طرف سے تعزیت کا تار بادشاہ، ملکہ کوئین میری اور ڈچس آف کینٹ کو دیا گیا جس کے جواب میں انہوں نے تاروں کے ذریعہ اس ہمدردی پر شکریہ ادا کیا۔تاریں ساؤتھ ویسٹرن سٹار نے شائع کیں اور مڈل ایسٹ ایجنسی نے مڈل ایسٹ میں اشاعت کیلئے بھیجیں۔ایام زیر رپورٹ میں لارڈ میئر فنڈ ڈے منایا گیا۔تمام معابد سے زخمیوں وغیرہ کیلئے چندہ جمع کرنے کیلئے درخواست کی گئی تھی۔مجھ سے بھی مئیر آف وانڈز ورتھ نے بذریعہ چٹھی درخواست کی تھی چنانچہ چندہ جمع