حیات شمس

by Other Authors

Page 386 of 748

حیات شمس — Page 386

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 370 کتاب The way to victory ایک ہزا چھپوائی گئی جس پر معہ ڈاک 42 پونڈ خرچ آیا۔اس کی پانچ سوکا پی بذریعہ ڈاک بھیجی گئی۔215 ممبران پارلیمنٹ کو لنڈن کے تمہیں اخبارات کو اور انگلینڈ آئر لینڈ کے 93 اخبارات کو۔مختلف حکومتوں کے 46 کو نسلوں کو اور اسی طرح اور دوسری سوسائیٹیوں کو مگر اول تو اس کے پہنچنے میں اور پھر اس کے چھپوانے میں ایک ماہ لگ گیا۔کرسمس کی وجہ سے اور مزدوروں کی قلت کی وجہ سے اتنا عرصہ لگا اور اس وقت چھپ کر تیار ہوئی جبکہ لیبیا میں جرمن سپاہی بھاگ رہے تھے۔(۲) ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن میں ہندوستان کے متعلق تین لیکچر ہوئے ایک سرعزیز الحق ہائی کمشنر فار انڈیا کا۔ان کے مضمون میں ہندو مسلم اتحاد پر زور تھا اور دوسرا سر حسن سہروردی کا اس میں پاکستان پر زور تھا۔تیسرا مہاراجہ جام صاحب نو انگر کا جنہوں نے فرمایا کہ ریاستوں کا مطالبہ یہ ہے کہ جو معاہدہ بادشاہ اور ریاستوں کے درمیان ہے اسے قائم رکھا جائے۔(۳) سرحسن سہروردی نے دو تین دفعہ کھانے پر بلایا اور سلسلہ کے متعلق گفتگو ہوئی اور واشنگٹن ارونگ وغیرہ نے اپنی کتب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو اعتراضات کئے ہیں ان کے جوابات دریافت کئے اور Theway to victory کو پڑھ کر کہا کہ ایسے صاف کشوف اہل اللہ کو ہی ہو سکتے ہیں۔(الفضل قادیان 12 مئی 1943ء) بچوں اور نو جوانوں کیلئے مذہبی تعلیم کی ضرورت ایام زیر رپورٹ میں جن دوستوں سے مذہبی گفتگو ہوئی ان میں مسٹرلیمبرٹ قابل ذکر ہیں جو ساؤتھ اینڈ سے آئے۔انہوں نے حضرت آدم و حوا کی پیدائش اور مسیح ناصری کے بعض اقوال کے متعلق دریافت کیا اور آخر میں کہا کہ اسلام نے پیدائش عالم کے متعلق جو بتایا ہے وہ قابل تسلیم ہے۔احمدیت اور تحفہ شہزادہ ویلز خرید کر لے گئے۔دوسرے ڈرہم یونیورسٹی (نیو کیسل) کے ایک پروفیسر آئے جو مدارس میں مذہبی تعلیم کے اجراء کے متعلق تجاویز جمع کر رہے ہیں اور اس ضمن میں مجھ سے ملنے آئے۔ان کا خیال تھا کہ صرف بچوں کو مدارس میں مذہبی تعلیم دینا کافی ہے بڑوں کو تعلیم دینے کی ضرورت نہیں۔میں نے کہا جب تک بڑوں کیلئے تعلیم کا انتظام نہیں کیا جائے گا اور انہیں مذہب کی طرف نہیں لایا جائے گا بچوں کو تعلیم دینا زیادہ مفید نہیں ہوسکتا۔جب وہ بڑے ہوں گے تو وہ بھی پہلوں کے نقش قدم پر چلیں گے اور لا مذہب ہوں گے۔اس نے کہا جب بچے بالغ ہو جاتے ہیں تو وہ ایسے اعتراضات کرتے ہیں جن کے استاد تسلی