حیات شمس — Page 380
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 364 ایسوسی ایشن کیلئے احمدیت حقیقی اسلام ہے اور تحفہ شہزادہ ویلز سوانح عمری آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتب بطور تحفہ پیش کیں جو انہوں نے اپنی لائبریری میں رکھ لیں۔(۲) ایک انگریز نو جوان مسٹر سائمن زیر تبلیغ ہیں۔انہیں کتب مطالعہ کیلئے بھیجی گئیں اور تبلیغی خط بھی لکھا گیا نیز گزشتہ جنگ عالمی سے پہلے زار کی حکومت کی طرف سے جو روسی کونسل لنڈن میں مقرر تھا اس کو اس کے ایک دوست کی معرفت احمدیت کتاب بھیجی گئی جس کا اس نے شکریہ ادا کیا نیز ڈاکٹر عمر سلیمان نے ایام زیر رپورٹ میں خطوط کے ذریعہ بہت سے سوالات دریافت کئے۔جن کے تحقیقی جوابات دیئے گئے۔الفضل قادیان 5 اکتوبر 1941ء) مکتوب لنڈن لنڈن میں عید الاضحیٰ 28 دسمبر 1941ء بروز اتوار منائی گئی۔حاضری حسب معمولی اچھی تھی۔نومسلم انگریز لنڈن کے علاوہ کینٹ اور ولنگٹن وغیرہ سے تشریف لا کر نماز میں شامل ہوئے۔ڈاکٹر سلیمان نیوکیسل سے آئے۔عید کی رپورٹ ہفتہ وار رسالہ گریٹ برٹن اینڈ دی ایسٹ، ساؤتھ ویسٹرن سٹار اور برو نیوز میں شائع ہوئی۔ایام زیر رپورٹ میں سرایڈورڈ میکسیکن سابق گورنر پنجاب کو چائے پر بلایا تھا وہ تشریف لائے اور ڈیڑھ گھنٹہ ٹھہرے۔مختلف امور کے متعلق گفتگو ہوئی۔زوغو سابق شاہ البانیہ کی ہمشیرہ کو Teachmig of Islam اور احمدیت اور ایک پارہ قرآن کریم کا بطور تحفہ پیش کیا۔دو انگریز نو جوان آئے جن سے مذہبی امور کے متعلق گفتگو ہوئی۔ہندوستانی احمدی فوجی دوست جو اس وقت انگلستان میں ہیں ان میں سے با بوسلیم اللہ صاحب مردانوی اور سید خادم حسین صاحب گھٹیالیاں اور برکت علی صاحب سکنہ چوبارہ تحصیل پسرور تشریف لائے۔بابوسلیم اللہ صاحب کے ساتھ ان کی کمپنی کے امام مولوی رفیع اللہ صاحب بھی تشریف لائے اور عید کے موقعہ پر بعض غیر احمدی طلباء بھی آئے۔سید فضل شاہ صاحب سکنہ مدینہ ضلع گجرات بھی مسجد دیکھنے کیلئے آئے۔احمدی دوست ملنے کیلئے آتے رہے ایام زیر رپورٹ میں بعض کتب کے مطالعہ کیلئے دو روز کیلئے آکسفورڈ گیا۔سیرالیون سے ایک شامی احمدی دوست نے بعض آیات قرآنیہ کی تفسیر دریافت کی جو انہیں لکھ کر بھیجی۔ایک سوڈانی دوست محمود زبیر مدت سے پٹنی میں رہتے ہیں اور مسجد میں آتے رہتے ہیں۔وہ مسجد وہ کنگ گئے تو انہیں کہا گیا کہ وہ ہمارے ہاں نماز پڑھنے کیلئے کیوں گئے اور یہ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک نبی مانتے