حیات شمس — Page 364
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 348 اس کا مطلب یہ تھا کہ میں جو موت سے بچنے کیلئے دعا کرتا ہوں تو وہ اس لئے نہیں کہ میں تیرے راستے اپنی جان دینے سے ڈرتا ہوں میں تو حاضر ہوں لیکن چونکہ میں تیرا رسول ہوں اور تو میری صداقت کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اس لئے اگر میں جیسا کہ میرا دشمن چاہتا ہے مارا گیا تو ان کے نزدیک میں جھوٹا ثابت ہوں گا۔اس لئے میری یہ درخواست کہ مجھ سے موت کا پیالہ ٹال دیا جائے صرف تیری مرضی اور ارادہ پورا کرنے کیلئے ہے نہ موت کے ڈر سے۔اور اگر یہ معنی نہ لئے جائیں تو وہ دعا ہی بے معنی ہو جاتی ہے۔اس کا جواب وہ آخر تک نہ دے سکے۔اسی طرح دیگر دلائل پر بحث ہوئی۔دوران بحث میں اس نے بعض سخت الفاظ بھی استعمال کئے اور کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔اگر یہی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکھایا اور قرآن میں لکھا ہے تو یہ جھوٹ سکھایا۔نیز لوگوں کو اکسانے کیلئے کہا یہ عیسائیت کو تباہ و برباد کرنے کیلئے آئے ہیں۔ان کی جرات تو دیکھو کہ عیسائیت کے سنٹر میں ہاں لنڈن کے ایک پارک میں عیسائیت کے عقائد کی اس طرح تردید کی جاتی ہے۔اگر مسیح صلیب پر نہیں مرے تو وہ کفارہ بھی نہیں ہوئے اس سے تو عیسائیت باطل ہو جاتی ہے مگر اس سے بڑھ کر جھوٹ کیا ہوسکتا ہے۔یہ اس جگہ جہاں سے کہ دنیا میں مشنری بھیجے جاتے ہیں عیسائیت کی تردید کرتے ہیں اور اسلام پھیلانا چاہتے ہیں۔اس کے سخت الفاظ پر معین حاضرین نے Shame Shame کے آوازے کسے۔میں نے کہا میں اسلام کی تعلیم کے مطابق گالیوں کا جواب گالی سے نہیں دوں گا اور نہ ہی میں اس پر دوسرے انگریزوں کو قیاس کرسکتا ہوں کیونکہ میں نے بہت سے چھوٹے اور بڑوں سے گفتگوئیں کی ہیں لیکن میں نے انہیں نہایت متین اور شریف پایا۔معلوم ہوتا ہے اس نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے جس قسم کے اخلاق کا اس نے مظاہرہ کیا ہے۔میں نے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ اسلام سے پہلے یہود نے اسی عقیدہ کی بنا پر کہ مسیح مصلوب ہو گئے انہیں لعنتی اور مفتری ہی قرار دیا اور عیسائیوں نے بھی جیسا کہ پولوس نے کہا اسے ملعون تسلیم کیا۔چنانچہ مناظر نے بھی اقرار کیا ہے کہ وہ ان کی خاطر ملعون ہوا لیکن انہوں نے ملعون کے معنوں پر غور نہیں کیا۔ایک انسان ملعون اسی وقت کہلاتا ہے جب اس کا خدا سے تعلق بالکل منقطع ہو جائے اور وہ اپنے اقوال و اعمال میں شیطان کی مانند ہو جائے اسی لئے شیطان کا نام ملعون ہے اور ایک ملعون شخص دوسرے کو لعنت سے کیونکر بچا سکتا ہے۔کیا اندھا اندھے کی رہنمائی کر سکتا ہے؟ پس یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احسان تھا کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو اس لعنت کے داغ سے بری قرار دیا اور فرمایا