حیات شمس — Page 363
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ہائیڈ پارک میں تقریریں اور دلچسپ مباحثہ 347 جولائی 1940 ء کو میں ابطال الوہیت مسیح کے موضوع پر بولا۔سوال و جواب کے دوران مسیح کی صلیبی موت کا بھی ذکر آیا۔لیکچر کے بعد ایک پادری نے اس مسئلہ کے متعلق مجھ سے گفتگو کی۔آخر طے پایا کہ 7 اگست کو اس موضوع پر مباحثہ کیا جائے چنانچہ وقت مقررہ پر جب میں نے بولنا شروع کیا تو وہ پادری بھی آ گیا۔اس نے وقت مانگا۔میں نے کہا پلیٹ فارم لے آؤ چنانچہ وہ پلیٹ فارم لے آئے۔آٹھ بجے سے دس بجے شام تک دو گھنٹہ مباحثہ ہوا۔دس دس منٹ بولنے کی باری مقرر ہوئی۔ایک شخص کو ٹائم کیپر مقرر کیا گیا۔مباحثہ ہوتے ہوئے پبلک خوب اکٹھی ہو گئی۔میں نے پہلی تقریر میں مسیح کے صلیب پر نہ مرنے کے ثبوت میں انجیل سے مسیح کی دعا پیش کی کہ اے خدا ہر ایک طاقت تجھ کو ہے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔چنانچہ عبرانیوں باب پانچ آیت سات میں لکھا ہے کہ وہ دعا اس کی سنی گئی۔نیز زبور سے اس دعا کی قبولیت کیلئے پیشگوئیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ دعا قبول نہیں ہوئی تھی تو مسیح مطابق یوحنا گنہگار ثابت ہوتے ہیں۔اس کے جواب میں عیسائی مناظر نے کہا کہ مسیح کی دعا پوری نہیں پیش کی گئی۔اس کے ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ میری مرضی نہیں بلکہ جو تیری مرضی ہے وہی ہو اور وہ اس لئے آیا تھا کہ صلیب پر مر کر لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہو۔میں نے کہا اگر اس فقرہ کا یہ مطلب ہے تو ” میری مرضی ہے کہ میں صلیب پر مارا جاؤں یا مجھے مارا جانا چاہیئے تو یہ دعا بے معنی ہوگی کیونکہ اس دعا کا خلاصہ یہ ہوگا کہ اے خدا ہر ایک طاقت تجھ کو ہے۔تو یہ موت کا پیالہ مجھ سے ٹال دے۔پر اگر تو نہیں چاہتا تو نہ ٹال۔کیا یہ بامعنی دعا کہلا سکتی ہے۔خدا کی مرضی تو ہو کر رہے گی چاہے کوئی کہے یا نہ کہے۔دعا صرف اتنی ہوگی کہ اے خدا تو موت کا پیالہ مجھ سے ٹال دے اور اگر یہ درست ہے کہ وہ لوگوں کی خاطر مرنے کیلئے آئے تھے تو پھر انہیں موت کے پیالہ سے بچنے کیلئے دعا کرنا درست نہ تھا لیکن اصل بات یہ ہے کہ پادری صاحبان مسیح کے اس قول کا کہ اے خدا میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو“ کا مطلب نہیں سمجھے۔مسیح کی دعا کے الفاظ جیسا کہ مرقس نے لکھا ہے یہ تھے: ” اے خدا ہر ایک چیز تیرے لئے ممکن ہے سو یہ پیالہ تو مجھ سے ٹال دے لیکن اس لئے نہیں کہ جو میں چاہتا ہوں وہ ہو بلکہ اس لئے کہ تا تیری مرضی پوری ہو [ مرقس 36:14]