حیات شمس — Page 351
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 335 باقی مسلمان اور ہندو سب کھا رہے تھے۔میں نے سول اور دی ہندو کے ایڈیٹرز کو ایک کھانے کی تحریک کے متعلق بتایا۔سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نمائندہ نے اس تحریک کو بہت پسند کیا اور کہا کہ اس سے انسان کو محنت کرنے کی بھی عادت پڑتی ہے اور وہ آرام پسند نہیں ہوتا۔ساؤتھ ویسٹرن سٹار کے ایڈیٹر کو میں نے چائے پر بلایا تھا اور اس کے نمائندہ کو بھی۔ایک گھنٹہ تک گفتگو ہوئی۔"Thetis" آبدوز کشتی کی غرقابی کا ذکر آیا چونکہ نمائندہ کو میرے تار اور جواب کا پتہ تھا ایڈیٹر نے مجھ سے اشاعت کیلئے مانگا۔میں نے کہا کہ میں نے سنا ہے ایسے پیغامات کے جوابات شائع کرنے مناسب خیال نہیں کئے جاتے۔کہنے لگے ایسے خبریں شائع کی جاتی ہیں۔8 جولائی کی میٹنگ میں بھی آنے کا وعدہ کیا ہے۔ہمارے پیغام کا ذکر دوسرے ممالک کے پریذیڈنٹوں اور دو اور بڑی بڑی سوسائٹیوں کے ساتھ ڈیلی ٹیلیگراف میں شائع ہوا تھا۔الفضل قادیان 23 جون 1939 ء ) مسجد فضل لندن میں مذاہب عالم کا نفرنس 8 جولائی 1939ء کو مسجد احمد یہ لنڈن میں سر فیروز خان نون (کے سی آئی ای ہائی کمشنر فارانڈیا ) کے زیر صدارت ایک مذہبی کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں اسلام ، عیسائیت اور یہودیت کے نمائندوں نے معزز اور تعلیم یافتہ انگریزوں کے ایک بہت بڑے مجمع میں امن عالم کے موضوع پر مقالے پڑھے۔اسلام کی نمائندگی مولوی جلال الدین شمس امام مسجد لنڈن نے فرمائی اور ” امن اور اسلام“ کے موضوع پر ایک پُر مغز مقالہ پڑھا۔وو اکیسویں صدی میں امن عالم کا مسئلہ خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔اسلام جس کے معانی ہی سلامتی کا مذہب کے ہیں، کی طرف نام نہاد دہشت گردی منسوب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔اس کا نفرنس کے بعد مولانا موصوف نے تینوں مقالے مکرم مولوی علی محمد صاحب اجمیری ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز اردو کی درخواست پر ریویو کیلئے قادیان بھجوادیے جو بعد میں ریویو کی زینت بنے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا شمس صاحب کے اس پر اثر مقالہ کا اردو ترجمہ پیش کیا جائے۔حضرت مولانا موصوف بیان کرتے ہیں : امن عالم اور اسلام فی زمانہ دنیا کا امن تباہ ہو چکا ہے، لوگوں کے قلوب نہایت مضطرب ہیں اور مشہور ومعروف مدبرین