حیات شمس — Page 335
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 319 تبلیغی سرگرمیاں [ نومبر۔دسمبر 1938ء میں ] مسٹر Priver آئے۔دو تین گھنٹہ دار التبلیغ میں ٹھہرے۔ان سے انجیل کے الہامی نہ ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے متعلق گفتگو ہوئی۔مطالعہ کیلئے کتب دی گئیں۔اس کے بعد ایک مرتبہ اور آئے اور ان سے گفتگو ہوئی۔(۲) ہائیڈ پارک میں بعض اشخاص ایک کیتھولک پادری سے یہ سوال کر رہے تھے کہ آپ کے مذہب میں دوسرے مذاہب کی کتب پڑھنا کیوں منع ہے۔اس نے جواب دیا کہ دوسری کتب کے پڑھنے کی ممانعت نہیں ہاں جھوٹی انجیلیں اور کتب پڑھنے کی ممانعت ہے۔میں نے کہا جب تک آپ دوسرے مذاہب کی الہامی کتب پڑھیں گے نہیں تو آپ کو کیسے پتہ لگے گا کہ یہ جھوٹی ہیں یا بچی ہیں۔بہر حال اس امر کا فیصلہ کہ کون سی کتاب بچی ہے اور کون سی جھوٹی ان کے مطالعہ پر ہی موقوف ہے۔اس نے جواب دیا کہ ہماری کتب مقدسہ کے سوا باقی کتب کچی نہیں ہیں۔میں نے کہا تب ان کا سوال کہ تمہارا عقیدہ ہے کہ دوسرے مذاہب کی کتب نہیں پڑھنی چاہئیں درست ہے۔(۳) مسٹر Copinger اور ان کی والدہ نے مجھے چائے پر اپنے گھر بلایا تھا نیز اپنے بعض رشتہ دار بھی بلائے۔چائے پر اسلامی تمدن، اخلاقی تعلیم کا عیسائیت کی تعلیم سے مقابلہ ، کامل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے نہ کہ مسیح اور صدقہ و خیرات کے متعلق اسلامی تعلیم بیان کی۔انہوں نے کہا یہ تو بہت اچھی باتیں ہیں اور ہمارے لئے بالکل نئی ہیں۔ہمیں یہ نہیں پتہ تھا کہ اسلام میں بھی ایسی تعلیم موجود ہے۔پھر میں نے انہیں دار التبلیغ میں بلایا اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سے زائد بیویاں کرنے کی حکمت بتائی اور بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روحانیت میں مسیح علیہ السلام سے بڑھ کر تھے۔(۴) ایک سپر چولسٹ سے گفتگو ہوئی اس نے بعض واقعات سنائے کہ کس طرح ارواح آتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ انسانی زندگی کا اصل مقصد تو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ان واقعات کی اگر صحت بھی تسلیم کی جائے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے میں کیا مد دل سکتی ہے۔اس پر اس نے کہا کہ آپ کی کتاب احمدیت میں بھی تو ایسے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر وہ باتیں بتا ئیں اور وہ ایسی ہیں کہ ان سے خدا اور اس کی صفات پر یقین بڑھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جتنا خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان