حیات شمس — Page 334
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 318 مرز اظفر احمد صاحب گزشتہ سال یہاں سے واپس ہندوستان پہنچے اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب عرصہ اڑھائی ماہ سے روانہ ہو چکے ہیں اور مصر میں مقیم ہیں اور صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے ساتھ ہندوستان پہنچیں گے۔صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے اس قلیل عرصہ میں آئی سی۔ایس۔کا امتحان پاس کیا اور اب بارایٹ لاء کا امتحان دیا ہے۔تمام احباب سے دعا کیلئے درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس امتحان میں بھی کامیابی عطا فرمائے۔8 اکتوبر کو صاحبزادہ مرزا مظفراحمد صاحب کو دار التبلیغ میں الوداعی ٹی پارٹی دی گئی جس میں ہندوستانی اور نو مسلم انگریز دوستوں کے علاوہ بعض غیر مسلم انگریز بھی شامل ہوئے۔قرآن مجید کی تلاوت کے بعد جو خاکسار نے کی مکرمی ڈاکٹر سلیمان صاحب نے جماعت احمدیہ کی طرف سے ایڈریس پڑھا۔اس کے بعد صاحبزادہ صاحب موصوف نے ایڈریس کا موزوں الفاظ میں جواب دیا۔آپ کے بعد مکرمی در دصاحب نے اپنے ذاتی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا مجھے خوشی بھی ہے اور افسوس بھی کہ ہمارے پاس سے مرزا مظفر احمد صاحب ہندوستان جارہے ہیں۔جتنا بھی یہاں مجمع ہے وہ کسی فیاض شخصیت کے پیش نظر نہیں آیا بلکہ سب کے سب خدا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کے اظہار کیلئے جمع ہوئے ہیں۔مرزا مظفر احمد صاحب کا ہر دل عزیز ہونا ان کی لیاقت یا قابل تحسین اخلاق کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک نا قابل بیان جذبہ ہے جس کی وجہ سے میں اور ہر دوسرا شخص ان سے محبت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ہر نبی جو دنیا میں آیا اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالتا رہا ہے جس سے ان کی ہر چیز پیاری نظر آنے لگتی ہے۔پس ایسی محبت کا ایک کرشمہ ہے جس نے ہمیں آج اس جگہ جمع ہونے پر مجبور کیا ہے۔اس سے پہلے بھی ایسے مواقع آئے جن میں قابل عزت ہستیاں ہمارے پاس سے رخصت ہوئیں۔مثلاً مرز اظفر احمد صاحب و مرزا ناصر احمد صاحب۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ بارادہ الہی مرزا سعید احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑپوتے بیمار ہوکر یہاں وفات پاگئے لیکن خوشی کی بات ہے کہ ان چار میں سے تین کامیابی کے ساتھ واپس ہوئے ہیں۔میں سمجھتا تھا اور ایسے احساسات کسی دلیل پر مبنی نہیں ہوتے کہ جب تک صاحب زادگان اس ملک میں موجود ہیں یہاں جنگ نہیں ہوگی۔چنانچہ کئی دفعہ جنگ کے زبر دست امکانات پیدا ہوئے لیکن ایسے اسباب پیدا ہو جاتے رہے جن سے جنگ رک جاتی رہی۔مجھے خوشی ہے کہ اس اثناء میں مجھے بھی ان کی خدمت کا موقع مل گیا۔آخر دعا پر یہ تقریب بخیر وخوبی ختم ہوئی۔خاکسار جلال الدین شمس از لندن۔الفضل قادیان 23 اکتوبر 1938ء)