حیات شمس

by Other Authors

Page 310 of 748

حیات شمس — Page 310

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 294 بتادیا تھا۔ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ مسیح موعود کو بھیجے گا سو وہ آچکے ہیں اور اگر تمام فرقے جمع ہو سکتے ہیں تو اس کی یہی صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آواز پر جمع ہو جائیں۔تفصیل سے اس امر کو بیان کیا۔اسلام کے موضوع پر لیکچر پرچہ اس کے بعد South End گیا اور اسلام کے موضوع پر تھیوسوفیکل سوسائٹی میں ایک گھنٹہ پڑھا۔چالیس پچاس کے درمیان حاضری تھی۔ایک گھنٹہ تک سوال و جواب ہوئے پہلی مرتبہ تھی۔سوالات دوزخ اور جنت، جہاد، عورت میں روح ہے یا نہیں مسیح کا پہاڑی وعظ قابل عمل ہے یا نہیں اور آیا بشپ وغیرہ مذہبی لیڈر دنیا میں امن قائم کر سکتے ہیں یا نہیں ، کے متعلق تھے۔سب حاضرین جواب سن کر خوش ہوئے۔میں نے حضرت مسیح موعود کی آمد اور یہ کہ دنیا میں اگر امن قائم ہوسکتا ہے تو آپ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرنے سے ہو سکتا ہے تفصیل سے بیان کیا۔سیکرٹری اور پریذیڈنٹ نے شکریہ ادا کیا۔۲ مئی کو ایل کو لونیل آرڈ بلیو تشریف لائے جو گورداسپور اور دہلی میں سیشن جج رہ چکے ہیں۔کرنیل ڈگلس کو جانتے ہیں اور مشہور مقدمہ سے بھی واقف ہیں۔ان کے ساتھ مہاراجہ کولہا پور سٹیٹ کے تین چازاد بھائی بھی تھے جو یہاں تعلیم پاتے ہیں۔۔۔(الفضل قادیان 11 جون 1937ء) ایک انگریز خاندان مسلمان ہوتا ہے ( حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب) قبل ازیں احباب مسٹر لطیف آرنلڈ اور امینہ آرنلڈ اور مسٹرلطیف آرنلڈ کی والدہ کے احمدیت میں داخل ہونے کی خبر اخبار الفضل میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔اس خاندان میں سے مسٹر آرنلڈ کے چھوٹے بھائی باقی تھے جو اٹھارہ انیس سال کے نوجوان ہیں۔خاموش طبیعت لیکن سمجھدار ہیں۔جب میں ان کے بھائی کو تبلیغ کیا کرتا اس وقت انہوں نے بھی دو دفعہ گفتگوسنی۔جب علیحدگی میں انہوں نے مجھ سے باتیں کیں تو انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یسوع مسیح در حقیقت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیلئے راستہ صاف کرنے کیلئے آئے تھے۔میں نے کہا آپ نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ بالکل درست ہے۔خیال تھا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ داخل اسلام ہو جائیں گے مگر جب ان کی والدہ داخل اسلام ہوئیں تو وہ پیچھے رہ گئے۔اس کے بعد پھر ان سے ایک دو دفعہ گفتگو کا موقع ملا۔( جولائی 1937 ء) میں جب مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے کام سے ایک ہفتہ کیلئے چھٹی لی ہے تو