حیات شمس

by Other Authors

Page 309 of 748

حیات شمس — Page 309

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 293 میں بلایا گیا۔مولانا در دصاحب نے انہیں بتایا کہ آج تمام دنیا اس امر کیلئے بے تاب ہے کہ کوئی ایسا وجود ہونا چاہیے جولوگوں کی راہنمائی کرے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیج دیا ہے۔اس کے بعد میں نے انجیل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے متعلق حوالہ جات بتائے۔ایام زیر رپورٹ میں مسٹر بریڈ شا لندن میں نصیرہ پینس کے ذریعہ اور مسز ریڈارے ہیسٹنگ سے حضرت مولوی شیر علی صاحب سے لمبی خط و کتابت کے بعد داخل سلسلہ ہوئی ہیں۔۔۔تھیوسوفیکل سوسائٹی میں لیکچر الفضل قادیان 3 جون 1937ء) (اپریل مئی 1937ء میں بعض نئے اشخاص کو تبلیغ کی گئی اللہ تعالیٰ انہیں قبول حق کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے علاوہ جو کام کیا وہ اختصار کے ساتھ بطور ڈائری مندرجہ ذیل ہے: مسٹر آرنلڈ کے مکان پرومبلڈن میں جا کر ان سے اردو اور نماز کا سبق سنا اور نیا سبق دیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معجزات سنائے اور حضرت مسیح اور حواریوں کے جو معجزات انا جیل میں لکھے ہیں ان کی حقیقت بتائی۔ایک انگریز مسٹر Bates اپنے ایک دوست کو ساتھ لے کے آئے۔ان سے ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب امنیت اور الوہیت مسیح اور مسیح کی آمد ثانی وغیرہ مسائل کے متعلق گفتگو ہوئی اور پھر مسجد دکھائی۔مسٹر Bates نے کہا کہ دوبارہ میں اپنے ساتھ اور دوستوں کو لے کر آؤں گا۔اچھا اثر لیکر گئے۔انہیں پڑھنے کیلئے پمفلٹ دیئے چند خطوط لکھے۔پھر مسٹر آرنلڈ کے مکان پر گیا وہاں مسٹر سموئیل موجود تھے، مسٹر آرنلڈ نے اسی غرض سے بلایا تھا کہ ان سے مذہبی گفتگو کی جائے۔وہ ومبلڈن کے سکول میں لاطینی پڑھاتے تھے۔فریج اور جرمن بھی پڑھاتے تھے، ان سے دوگھنٹہ تک ضرورت مذہب اور موجودہ انجیل اور مسیح کے معجزات وغیرہ پر بحث ہوئی، گفتگو کا ان پر اچھا اثر ہوا۔مسٹر آرنلڈ نے East End جا کر ایک سکھ سے پگڑی خریدی اور اسے بتایا کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔مسجد کا ذکر کیا تو اس نے کہا میں مرزا صاحب کو جانتا ہوں میں چھوٹا تھا جب وہ لدھیانہ آیا کرتے تھے۔بڑے اچھے اور نیک آدمی تھے۔ایک معزز ہندوستانی تشریف لائے جن سے گفتگو کی۔انہوں نے پوچھا مسلمانوں میں اتفاق کیسے ہوسکتا ہے۔میں نے جواب دیا کہ سیاسی لیڈروں کے ذریعہ مذہبی اتحاد ہونا ناممکن ہے۔اللہ تعالیٰ نے پہلے سے خبر دی تھی کہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوگا اور اس کا علاج بھی