حیات شمس — Page 301
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 285 چنانچہ قرآن مجید میں آتا ہے جب جنوں کا گروہ قرآن مجید سن کر قوم کی طرف واپس گیا تو انہوں نے کہا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَاباً أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسى (الاحقاف:31) حالانکہ قرآن مجیدز بور اور انجیل کے بعد اور داؤ د وسلیمان و یحیی و زکریا اور عیسی علیہ السلام کے بعد اترا تھا لیکن انہوں نے اسے موسیٰ کے بعد قرار دیا۔پس اگر اس پیشگوئی میں مسیح موعود علیہ السلام کو مرا دلیا جائے تو لفظ بعدی اس کے مخالف نہیں ہے اور فَلَمَّا جَاءَ هُمُ کا یہ جواب ہے کہ پیشگوئی میں اکثر ماضی کا صیغہ بیان کیا جاتا ہے لیکن مراد مستقبل ہوتی ہے۔اس کے تحقیق کے وقوع کے یقین ہونے کی وجہ سے ایسے طور پر بیان کی جاتی ہے گویا واقع ہو گئی۔چنانچہ اس کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔سورہ ملک میں مکہ والوں پر عذاب آنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَدَّعُونَ O (الملک :28) حالانکہ وہ عذاب آنے والا تھا اور تیسری بات کا یہ جواب ہے کہ ساحر ہر نبی کو کہا جاتا ہے اور اس کی باتوں کو سحر قرار دیا جاتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كَذَالِكَ مَا أَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ (الذاريات: 53) اور اسی طرح ہارون و موسیٰ علیہما السلام کے متعلق آتا ہے۔قَالُوا سِحْرَانِ تَظَاهَرا (القصص:49) پس جب مسیح موعود آئے گا اور اسے ساحر اور اس کی باتوں کو سحر کہا جائے گا تو اس پر یہ بات صادق آجائے گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ساحر اور آپ کی باتوں کو سحر کہا گیا۔پھر میں نے ابتدائے سورۃ سے آخر سورۃ تک اپنی تفسیر کی تائید میں وجوہات پیش کیں اور یہ بھی بتایا کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اصل ہیں اور مسیح موعود آپ کے امتی ہونے کیوجہ سے آپ کے ظل ہیں اس لئے اس رنگ میں آنحضرت ﷺ کے متعلق بھی پیشگوئی ہے کیونکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود نہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود کا بھی ظہور نہ ہوتا۔ایک نے یہ سوال کرنا چاہا کہ اگر پیشگوئی میں ایک قسم کا اشتباہ ہوتا ہے تو پھر اگر احمد سے مراد مسیح موعود لئے جائیں تو پھر تو اشتباہ نہ رہا۔کیونکہ اسی نام کا مسیح موعود آگیا مگر دوسری بات شروع ہو جانے کیوجہ سے اس اعتراض کا اس نے پھر ذکر نہ کیا مگر اس کا یہ جواب ہے کہ اس پیشگوئی میں اشتباہ تو پیدا ہو گیا کہ آیا اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا مسیح موعود ہیں۔پہلے مفسرین اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد لیتے رہے۔پس ایک رنگ کا اخفا اس پیشگوئی میں بھی پایا گیا غرض ترجیح اس تفسیر کو دینی چاہیے جس کی تائید میں زیادہ دلائل پائے جائیں۔(الفضل قادیان 15 اپریل1937ء)