حیات شمس — Page 300
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 284 سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ پیشگوئیوں کی تفسیر میں ہمیشہ اختلاف ہوتا رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو رات میں پیشگوئی تھی کہ موسیٰ کی مانند ایک نبی آئے گا مگر اس میں ” تمہارے بھائیوں میں سے آئے گا کے الفاظ سے تمام یہود نے سمجھا کہ وہ ان میں سے آئے گا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں نے اس سے مراد بنی اسماعیل لئے مگر یہود نے اس تفسیر کو نہ مانا اور اس پیشگوئی کی طرف قرآن مجید کی آیت وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرائيلَ عَلى مِثْلِهِ (الاحقاف:11) میں اشارہ کیا گیا ہے۔اسی طرح اسمہ احمد کی تفسیر میں اگر آپ ہم سے اختلاف کریں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے مگر دیکھنا یہ چاہیے کہ جس تفسیر کی صحت پر دلائل اور قرائن زیادہ پائے جائیں وہی تفسیر زیادہ صحیح ہوگی۔آپ بتائیں کہ آپ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیسے مراد لیتے ہیں؟ انہوں نے اپنی تفسیر کی تائید میں تین باتیں پیش کیں۔(۱) عیسی علیہ السلام مِنْ بَعْدِی فرماتے ہیں کہ میرے بعد آئے گا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(۲) فَلَمَّا جَاءَ ہم ماضی کا صیغہ ہے کہ جب وہ ان کے پاس آیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ احمد سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(۳) انہوں نے اسے سحر کہا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سیا حر اور آپ کی باتوں کو سحر کہا گیا۔میں نے کہا کہ یہ تینوں باتیں اس امر کی قطعی دلیل نہیں ہوسکتی ہیں کہ احمد سے مراد صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کیونکہ اول تو آپ کا ذاتی نام احمد نہ تھا۔اگر یہ پیشگوئی واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تھی تو چاہئے تھا کہ آپ کا نام ابتدا سے احمد ہوتا لیکن یہ بات تاریخ سے ثابت نہیں ہے کہ آپ کا نام احمد تھا۔آپ کا نام محمد تھا۔قرآن مجید میں بھی جہاں آپ کا نام آیا ہے محمد ہی آیا ہے۔(۱) وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( آل عمران : 145) (٢) مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ ( الفتح: 30) (۳) بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ( سوره محمد : 3 ) (۴) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا اَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ (الاحزاب: 41)۔ایک آیت میں بھی تو آپ کا نام احمد نہیں آیا۔پھر عبادات میں اللهم صل علی محمد اذان میں بھی اور پھر کلمہ میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ذکر ہے تو کیا لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ کہنا جائز ہے۔کہنے لگے نہیں تو میں نے کہا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ آپ کا نام احمد نہیں رکھا گیا تھا۔یہ صرف آپ کا دوسرے ناموں کی طرح ایک صفاتی نام تھا اور کا فرصاف طور پر کہہ سکتے تھے کہ پیشگوئی میں تو آنے والے کا نام احمد لکھا ہے اور آپ کا نام تو محمد ہے۔پھر آپ کیونکر اس کا مصداق بن سکتے ہیں اور لفظ بعدی سے بعد یت متصلہ مراد لینا ضروری نہیں۔