حیات شمس — Page 264
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 248 شائع کروائے۔کئی لیڈروں کو خلیفہ امسیح کی زیر ہدایات خطوط ارسال کئے، کئی مقامات کا دورہ کیا اور بعض مقامات پر جلسوں میں بھی شامل ہوئے۔آپ کی ان خدمات کا دائرہ چار سال پر محیط ہے۔اکتوبر 1931ء میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب جب شام سے تشریف لائے تو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپ کے سپر د کشمیر کا کام کر دیا۔اس سلسلہ میں سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص جو چھ سال کا لمبا عرصہ اپنے وطن سے دور سمند پار رہا ہو وہ امید کر سکتا ہے کہ واپسی پر اسے اپنے رشتہ داروں کے پاس رہنے اور آرام کرنے کا موقع دیا جائے گا مگر یہ مردوں اور عورتوں کیلئے تعجب کی بات ہوگی کہ مولوی صاحب جب سے آئے ہیں گل صرف چند گھنٹے کیلئے اپنے وطن گئے کیونکہ آتے ہی انہیں کام پر لگا دیا گیا ہے۔“ الفضل قادیان 14 فروری 1932ء) لجنہ اماءاللہ قادیان کی طرف سے چندہ لجنہ اماءاللہ قادیان کی طرف سے بتاریخ 20 اپریل 1932 ء آل انڈیا کشمیری کمیٹی کو 37 روپے 2 آنے اور ایک نقرئی ہار و انگشتری چندہ میں کشمیر کے مظلوم و بے کس یتیموں اور بیواؤں کی امداد کے لئے ملے اور سیکرٹری صاحبہ نے وعدہ فرمایا کہ وہ اس غرض کیلئے مستورات سے اور بھی چندہ جمع کر کے بھجوائیں گی۔چنانچہ اس وعدہ کے مطابق 21 اپریل 1932ء کو سیکرٹری صاحبہ نے 42 روپے 12 آنے 6 پائی کی رقم خواتین سے چندہ جمع کر کے بھجوائی۔جس کے لئے ہم اپنی ان محترم بہنوں کا عموماً اور سیکرٹری صاحبہ کا خصوصاً بصد خلوص شکر یہ ادا کرتے ہیں اور دوسری مسلمان بہنوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بھی اس کارخیر میں حصہ لیں اور ان مظلوم بیواؤں اور بے کس یتیموں کے لئے جن کے خاوند اور باپ آزادی کی پُر امن جنگ میں جدو جہد کرتے ہوئے اپنی عزیز جانیں قربان کر چکے ہیں چندہ کر کے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نام یا مسلم بنک آف انڈیا لا ہور میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے حساب میں بھجوائیں۔خاکسار شمس کا شمیری اسٹنٹ سیکرٹری کشمیر کمیٹی۔(الفضل قادیان 2 اپریل 1932ء)