حیات شمس

by Other Authors

Page 263 of 748

حیات شمس — Page 263

حیات ٹمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس کشمیریوں کیلئے خدمات 247 برصغیر کا سب سے دیرینہ اور اہم مسئلہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔جماعت احمدیہ نے بیسیویں صدی میں عمومی طور پر اور 1930ء کے عشرہ میں خصوصاً کشمیریوں کی آزادی اور کشمیر کمیٹی کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔تاریخ احمدیت جلد پنجم ایڈیشن 2003ء میں خدام احمدیت کی کشمیریوں کیلئے خدمات کے موضوع پر 300 سے زائد صفحات پر مشتمل اہم دستاویزات و مواد پیش کیا گیا ہے۔حضرت مولانا شمس صاحب جب بلاد عر بیہ سے واپس ہندوستان میں تشریف لائے تو آپ کو سید نا حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عنہ نے کشمیر کیٹی کی خدمات پر مامورفرما دیا۔آپ 1936 ء تک کشمیر یوں کی آزادی کیلئے جدو جہد کرتے رہے اور خلیفہ اسیح کی طرف سے جو خدمت سپرد ہوئی اسے بجالاتے رہے۔اس کے بعد 1936ء میں ہی آپ کا انگلستان کیلئے تقرر ہوگیا۔آپ نے اس عرصہ میں کشمیر اور کشمیر کمیٹی کیلئے اپنی قالی، حالی، لسانی عملی اور انتظامی خدمات پیش کیں اور حضور کی زیر ہدایت کئی اہم امور سرانجام دیئے۔کشمیر اور کشمیریوں کی حمایت کیلئے بہت سی اطلاعات اور اعلانات آپ کی طرف سے شائع ہوئے۔کشمیر کی خدمات پر مامور خدام احمدیت کی عدالتی سرگرمیوں اور ان کی کشمیریوں کے حقوق کیلئے دیگر سرگرمیوں کی رپورٹیں بھی آپ کی طرف سے اخبارات و جرائد کی زینت بنیں۔اس عرصہ کی آپ کی بعض کا وشوں کی نہایت مختصر جھلک پیش خدمت ہے۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طرف سے کشمیر کے کام کی سپردگی 1932ء سے 1936 ء تک مولانا صاحب نے کشمیریوں کی حمایت میں کئی مضامین لکھے۔کئی اعلانات