حیات شمس

by Other Authors

Page 217 of 748

حیات شمس — Page 217

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 201 ان کے شکوک وشبہات کو جو انہیں اسلام کے متعلق تھے دور کیا۔اب جماعت احمد یہ سوریہ وفلسطین نے یہ انتظام کیا ہے کہ وقتا فوقتا مسیحیت کی تردید اور اسلام کی تائید میں ٹریکٹ شائع کئے جایا کریں۔چنانچہ پہلاٹریکٹ جو چالیس صفحہ کا ہے دو ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا ہے اور اس کا نام الهــــــديـــــة السنية للفئة المبشرة المسيحية ہے یعنی مسیحی مبلغ جماعت کیلئے عمدہ تحفہ۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق پر توریت و انجیل سے دلائل بیان کئے گئے ہیں اور نیز ثابت کیا گیا ہے کہ آپ ہی افضل الانبیاء ہیں اور مسیح علیہ السلام اور آپ کا بلحاظ ذاتی فضائل اور اتباع کے مقابلہ کر کے دکھایا گیا ہے۔منجملہ ان امور کے ایک بات قارئین کرام کی ضیافت طبع کیلئے رقم کرتا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ کسی کی دوستی کسی کے تعلق اور قلبی حالت کا اندازہ مصیبت کے وقت ہی لگایا جاسکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک تنگی کا وقت وہ تھا جب کفار نے آپ ﷺ کے قتل کی نیت سے آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ وہاں سے بسلامت نکل کر غار ثور میں پناہ گزیں ہوئے۔اب دشمن غار کے منہ پر کھڑا ہے۔ذرا نیچے گردن جھکائے اور وہ حضور اور آپ کے یار غار کو دیکھ سکتا ہے۔چنانچہ حضرت ابو بکر اس حالت کو دیکھ کر غم کھاتے ہیں تو آپ اسے یوں تسلی دیتے ہیں کہ لا تحزن ان الله معنا کہ تو غم نہ کر اللہ ہمارا محافظ ہے وہ ہمارا ناصر وبدددگار ہے پھر کس کی مجال ہے جو ہمیں قتل کر سکے۔مگر جب مسیح کو صلیب پر لٹکایا گیا تو انہوں نے بالفاظ انجیل چلا کر کہا۔ایـلـی ایـلـی لما سبقتانی۔اے میرے خدا اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اب بتاؤ ان دونوں میں سے کون خدا تعالیٰ کا زیادہ مقرب ہو سکتا ہے اور کس کا اللہ تعالیٰ سے زیادہ تعلق تھا اور کس کو اپنے مولیٰ کی مدد کا زیادہ یقین تھا۔کیا وہ جو کہتا ہے کہ اے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا یا وہ جس نے اپنے ساتھی کو بھی اپنے ساتھ شامل کر کے کہا کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔وہ ہمارا محافظ ہے۔چنانچہ یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔باوجود یکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت ہوئی اور دشمنوں نے آپ کے قتل کی جان توڑ کوششیں کیں مگر اللہ تعالیٰ نے آپ صلعم کی حفاظت کی۔اسی طرح ابو بکر کی خلافت کے وقت ارتداد کا فتنہ بگولے کی طرح اٹھا اور اس وقت بھی اسلام سخت خطرہ کی حالت میں پڑ گیا مگر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کی حفاظت کی مگر قول لا تحزن ان الله معنا کی شان اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر و عثمان و علی سب شہید ہوئے۔