حیات شمس

by Other Authors

Page 207 of 748

حیات شمس — Page 207

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس بغاوت ہو جائے گی۔191 اب یہ مضبطہ انہیں کیا فائدہ دے سکتا ہے۔اول تو حکومت کا یہی جواب ہوگا کہ اگر ہم نے انہیں تبلیغ کی آزادی دی ہے تو تمہیں بھی دی ہے۔تم بھی تبلیغ کر سکتے ہو۔دوسرے اس کے یہ معنے ہیں کہ حضرات علماء پادریوں کا مقابلہ کرنے سے عاجز آگئے۔ایک ان پڑھ شخص نے جب اُسے دستخط کرنے کیلئے کہا گیا کیا ہی لطیف جواب دیا کہ اگر کوئی بخوشی خاطر مسیحی ہونا چاہے تو یہ تمہارا منضبطہ کیا اسے روک سکتا ہے۔دوسرے اگر اسلامی ممالک کے علماء پادریوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو دوسری جگہوں میں پھر کون مقابلہ کر سکتا ہے۔پھر یہ دلیل پیش کرنا کہ یہ اسلامی ممالک ہیں اس لئے تبلیغ مسیحی کو بند کرنا چاہئے ایسا ہی ہے جیسا کہ کہا جائے یورپ اور امریکہ مسیحی ممالک ہیں اس لئے وہاں تبلیغ اسلام نہ ہونی چاہئے۔خرابی تمام کی تمام یہاں کے رؤسا وعلماء کیطرف سے ہے۔دین کیلئے ایک پیسہ خرچ کرنا انہیں محال ہے۔آپ دیکھیں گے کہ یہاں کے اکابر ہندوستان وغیرہ سے قومی منافع کے لئے چندہ جمع کر کے لاتے ہیں مگر اس کا اکثر حصہ اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں۔یہاں کے وقف کی آمدنی اتنی ہے کہ کئی مشن تبلیغ کے لئے کھولے جا سکتے ہیں۔ایک مفتی کئی ہزار پونڈ کی جائیدا در کھتا ہے جو انہی طریقوں سے جمع کیا گیا ہے۔ماہواری تنخواہ ساٹھ پونڈ لیتا ہے اور رئیس مجلس الاسلامی الاعلیٰ 150 پونڈ ماہوار تنخواہ لیتا ہے مگر کام کوئی بھی نہیں۔اسی طرح رو پید اپنے پیٹوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور خوب عیش و نعم سے زندگی بسر کر رہے ہیں مگر اسلام کی طرف کوئی توجہ نہیں۔چنانچہ تین چار ہزار پونڈ وقف سے ماہواری تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے مگر پوچھا جائے کہ دین کے لئے کونسا کام کیا جاتا ہے۔فقراء بھوک سے مررہے ہیں۔بدء الاسلام غريباً وسيعود غريباً۔اسلام ایک مسافر بے زاد بے ناصر و معین ہے۔اسی حالت کو خدا تعالیٰ کے پیارے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام غمخوار اسلام نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بے یار و بے کس ہیچو زین العابدین مردم دی مقدرت مشغول عشرتہائے خویش خرم خندان نشسته بابتان نازنیں اے پیارے خدا ہمیں وہ وقت دکھا کہ تیرے دین کی دنیا میں عظمت قائم ہو اور تیرے نام کی تمام روئے زمین پر تسبیح و تقدیس ہو۔آمین۔(الفضل قادیان 11 مئی 1928ء)