حیات شمس

by Other Authors

Page 204 of 748

حیات شمس — Page 204

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 188 علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسیح دمشق کے دروازہ میں منارہ کے پاس نزول کرے گا۔چنانچہ سنتر ال ہوٹل جس میں آپ نے قیام فرمایا وہ دمشق کا دروازہ ہی ہے اور مسجد سنجقدار کے منارہ کے شرقی جانب ہے اور آپ تین دن تک جو نزیل کی احادیث میں مدت بیان ہوئی ہے، وہاں ٹھہرے۔آپ کی آمد سے ایک شور بر پا ہو گیا۔لوگوں نے سلسلہ کے متعلق مختلف رائیں ظاہر کیں۔پھر ایک سال کے بعد حضور نے خاکسار اور سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو برائے تبلیغ بھیجا۔شاہ صاحب نے ایک ٹریکٹ الحقائق عن الاحمدیہ شائع کیا۔بہت سے لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ایک ماہ کا عرصہ ہمارے پہنچنے پر گزرا تھا کہ حکومت اور اہالی جبل دروز کے مابین لڑائی شروع ہو گئی جس میں چند دن کے بعد اہالی شام بھی جبل دروز کے ساتھ مل گئے۔تا وہ بات جو اللہ تعالیٰ نے تئیس سال پہلے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ کہی تھی ، پوری ہو۔[ بلاء دمشق۔سرک سری۔ایک اور بلا برپا ہوئی۔چنانچہ دمشق ایک عظیم بلا میں مبتلا ہو اجس کی نظیر تین ہزار سال پہلے تک نہیں ملتی۔شاہ صاحب چھ ماہ کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے حکم کے موافق واپس ہند چلے گئے اور خاکسار اپنی طاقت کے موافق ان حالات میں جبکہ لوگوں کو رات دن اپنی جانوں کا فکر رہتا تھا شہر میں جنگ ہوتی تو ہیں دندناتی مشین گنیں چلتیں اور بم کے گولوں کے پھٹنے کی آوازیں ہر طرف سنائی دیتی تھیں، کام کرتا رہا۔دو سال تک یہی حالت رہی۔مارشل لاء قائم رہا۔اجتماعات ممنوع رہے۔جب احکام شدیدہ میں ذرا تخفیف ہوئی تو میں نے اس منارہ کے نیچے جس کے پاس حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا نزول ہوا تبلیغ کیلئے مکان لیا جہاں پانچ اشخاص نے بیعت کی جن میں سید منیر آفندی الحصنی اور سید ابو علی مصطفے بھی تھے۔اس کے بعد شہر میں ایک تحریک پیدا ہوئی اور مشائخ میں ایک ہلچل پڑ گئی اور وہ حدیث کہ مسیح منارہ کے نیچے سے نکلے گا مسیح موعود کی دعوت کے پڑگئی اس مقام کے پھیلنے سے پوری ہوئی جو منارہ کے نیچے ہے۔اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو دمشق اور دوسری جگہوں میں سلسلہ کی قبولیت کی توفیق عطا فرمائی بچوں وغیرہ کو چھوڑ کر ان کی تعداد تقریبا پچاس ساٹھ ہے جن میں سے بارہ مخلصین کے نام بالترتیب ان کے اخلاص اور سبقت بالایمان کو مدنظر رکھتا ہو الکھتا ہوں۔ا۔احسان سامی حقی۔۲۔ممدوح آفندی حقی۔۳۔محمد اسماعیل بیگ حقی۔۴۔منیر آفندی الھنی۔۵۔ابوعلی المصطفے - ۶ - ابو صالح محمد صلاح - ۷ محمد خلیل الباشا۔۸۔ابو محمود محمد الوجود البا رو دی۔