حیات شمس

by Other Authors

Page 168 of 748

حیات شمس — Page 168

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 168 کہا جانے دو یہ تو مجنون ہے۔اس پر شیخ نے کہا کیا میں مجنون ہوں تم مجنون ہو۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا میں بحیثیت ڈاکٹر ہونے کے کہتا ہوں تم مجنون ہو۔ابھی رپورٹ کر کے تین سال کے لئے پاگل خانہ بھجوا سکتا ہوں۔اس پر چپ ہو گیا۔غرضیکہ شیخ صاحب کی ساری شیخی دومنٹ میں ہی کر کری ہوگئی اور اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔یہ شیخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی اچھی طرح نہیں لیتا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ إِنِّي مُهِيْنٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَگ کا جلوہ دکھایا اور سب کے سامنے وہ نہایت ذلیل ہوا۔عابدین بیگ صاحب نے کہا کہ میں نے آج تک اپنی عمر میں کسی پر اتنا غصہ کا اظہار نہیں کیا ہے۔مجھے اس بات کا ڈر پیدا ہوا کہ یہ مجھ سے اس طرح پیش آیا ہے تو ان سے بھی اسی طرز پر سختی سے گفتگو کرے گا تو اس میں میری ہتک ہے کیونکہ وہ میرے معزز مہمان ہیں۔شیخ نے کہا میں نے امرحق کے لئے غضب کا اظہار کیا ہے تاکسی کو گمراہ نہ کر دیں۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا۔اگر ہم سب احمدی ہو جائیں تو تو کوئی ہمارا ٹھیکیدار ہے؟ عابدین بیگ صاحب نے کہا دو ماہ سے میرے پاس آتے جاتے ہیں میں نے ایک دن بھی کوئی بات ان سے خلاف اسلام نہیں سنی بلکہ ہر ایک بات کو مدلل اور معقول پیرایہ میں پیش کرتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب استفتاء پڑھنے لگا۔چونکہ چھا پہ ہندی تھا اچھی طرح پڑھ نہ سکے۔جب رک جاتے تو کہہ دیتے کہ معلوم نہیں یہ کیا کہتا ہے مجنون کی سی باتیں ہیں۔میں نے کہا ہر ایک نبی کے وقت مجنونوں نے ایسا ہی کہا ہے۔نبی چونکہ بطور شیشہ کے ہوتے ہیں۔اس میں ہر ایک شکل دیکھتا ہے۔کفار نے بھی آنحضرت صلعم کے متعلق یہی کہا۔وَيَقُوْلُوْنَ أَئِنَا لَتَارِكُوا الِهَتِنَا لِشَاعِرِ مَجْنُونِ (الصافات:37) اس کے بعد ختم نبوت کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے کہا۔میں نے کہا گفتگو کا طریق یہ ہوگا کہ یہ آیت خاتم النبیین کی پہلے تفسیر کرے ہم سب سنیں۔کوئی درمیان میں نہ بولے۔آخر تفسیر کھول کر پڑھنے لگا۔جب پڑھ چکا تو پھر میں نے مفصل طور پر اس آیت کی تفسیر کی مگر اسے چین کب آتا تھا۔درمیان میں بولتا رہا مگر آخر میں حاضرین نے شیخ کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھو جو معنے انہوں نے پیش کئے ہیں اس سے آنحضرت صلعم کی شان بڑھ چڑھ کر ثابت ہوتی ہے۔اس میں حدیث لَوْ عَاشَ إبْرَاهِيمُ لَكانَ صِدِّيقًا نَبیا پر بحث ہوئی۔وہ کہے ضعیف ہے۔میں نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔تیسرے دن ایک نوجوان کو کتابوں کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے وہاں پر پہنچ گیا۔میں بھی اتفاق سے وہیں تھا اور