حیات شمس

by Other Authors

Page 145 of 748

حیات شمس — Page 145

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 145 آواز سنائی دیتی رہی ہے۔دمشق آج کل میدان حرب بنا ہوا ہے۔اندریں حالات لوگوں سے اجتماع کا موقعہ بہت ہی کم ملتا ہے اس لئے بذریعہ ڈاک ٹریکٹ روانہ کر رہا ہوں۔اگر چہ اس وقت لوگوں کے خیالات پریشان ہیں مذہبی امور کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے مگر بہر حال ان کو دعوت پہنچا دینا ہمارا فرض ہے۔عید کے موقعہ پر قریباً 24 اشخاص سے ملنے کا اتفاق ہو ا سلسلہ کے متعلق گفتگو ہوئی۔میں نے ان میں سے کسی کو ایسا نہیں دیکھا جو وفات مسیح کے دلائل سمجھانے کے بعد حیات مسیح کا قائل رہا ہو۔دعوت دی تین چار اور اشخاص بھی بلوائے جن میں ایک شیخ بھی تھا۔انہوں نے خود ہی اس شیخ سے کہا کہ آپ کی مسیح کے متعلق کیا رائے ہے یہ تو ثابت کرتے ہیں کہ وہ وفات پاگئے ہیں۔دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ان میں بعض باتوں کا ذکر کرنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔شیخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اتبعوا السواد الاعظم تمام امت محمدیہ کا ابتداء سے آج تک یہی عقیدہ رہا ہے کہ مسیح زندہ ہیں پھر وفات مسیح کو کیسے مانا۔احمدی تمام صحابہ کا اجماع وفات مسیح پر ہوا۔امام مالک کا یہی مذہب ہے۔حدیث کے معنے سمجھتے ہیں صحیح نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَلِيْلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُور۔پھر کفار یہی کہتے ہیں۔نَحْن اَكْثَرُ أَمْوَالًا وَاَولاد۔ہم اموال و جتھے کے لحاظ سے زیادہ ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے 72 فرقے ہوں گے۔ایک ناجی 72 ناری ہوں گے۔بتائیے کثرت کس طرف ہوگی۔پھر فرماتے ہیں ایک گروہ میری امت کا حق پر رہا کرے گا اور وہ دوسروں پر غالب رہے گا۔پھر حدیث میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو کثرت پر دلالت کرے۔سواد کے معنے طائفہ وگروہ کے ہیں اور اعظم زیادہ عظمت والا اور عظم کا لفظ عربی زبان میں مرتبہ پر دلالت کرتا ہے نہ کہ عدد پر۔جو اپنے دشمنوں پر غالب رہے چاہے تعداد میں تھوڑا ہی ہو۔اس وقت دشمنوں کا حملہ دین اسلام پر بلحاظ دلائل و براہین کے ہے اس لئے جو دشمنوں پر بلحاظ دلائل و براہین غالب ہو وہی سواد اعظم ہے اور اسی کی پیروی کا حکم رسول کریم ﷺ نے دیا ہے اور وہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہے۔پھر اس کے بعد میں نے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (المائدة : 118) سے وفات مسیح پر استدلال کیا۔شیخ توفی کے معنی تغییب کے ہو سکتے ہیں۔احمدی: افسوس عربی زبان ان معنوں کو جائز قرار نہیں دیتی اور آج تک تو فی کا لفظ ان معنوں میں