حیات شمس — Page 144
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 144 تبھی پڑتی ہے جبکہ الزام لگایا گیا ہو۔باقی تمام انبیاء کے خاندانوں کی پاکیزگی لوگوں کے نزدیک مسلم تھی لیکن مسیح کے خاندان پر الزام بھی لگایا تھا اس لئے اس کی بریت کی گئی۔اسی رنگ کی دوسری مثال قرآن مجید میں وارد ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ ( البقرہ : 103)۔اب حضرت سلیمان سے کفر کی نفی کی گئی باقی انبیاء سے اس طریق پر کفر کی نفی نہیں کی گئی۔کیا باقی انبیاء نعوذ باللہ کفر پر تھے ؟ سلیمان کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا تھا کہ ان کی طرف کفر منسوب کیا گیا تھا۔آپ کی بریت لفظ انبیاء سے کی کہ آپ نہایت راست گونبی تھے۔اس پر جب کوئی جواب نہ بن آیا تو کہنے لگے کہ میں اپنے قیس کو لاؤں گا۔دو ہفتے گزر گے نہ وہ آیا نہ اس کا قیس آیا۔حيات المسيح ووفاته من وجهاته الثلاثة ایک گردی نے اپنے مکان پر دعوت دی تھی۔ان کے پاس رات رہے دو شیخ بھی بلوائے۔ہیں کے قریب آدمی تھے۔مسائل متنازعہ حیات مسیح و نبوت وغیرہ پر گفتگو ہوتی رہی تھی۔جب ان سے کوئی جواب نہ آیا تو کہنے لگے ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔مکر می شاہ صاحب نے فرمایا حیات مسیح کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔حاضرین پر اچھا اثر ہوا۔شاہ صاحب کی کتاب حيـــات الـمـسـيـح ووفــاتــه مـن وجهاته الثلاثة چھپ گئی ہے۔اس میں آپ نے مسیح کی وفات تین طریق پر ثابت کی ہے از روئے انجیل، از روئے قرآن ، ثابت کیا ہے کہ کشمیر سری نگر محلہ خان یار میں جو قبر یوز آصف کی قبر کے نام سے مشہور ہے وہ صحیح ناصری کی قبر ہے جو عیسی نبی کی قبر کر کے بھی مشہور ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔لوگوں کو مطالعہ کیلئے بھی دی جاتی ہے ، پڑھ کر خوش ہوتے ہیں۔(الفضل قادیان 2 مارچ 1926ء) ایک شیخ سے وفات مسیح پر گفتگو ( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) حالات حاضرہ کی وجہ سے دمشق کی حالت نہایت نازک ہے۔لوگ بدستور یہاں سے ہجرت کر کے دوسرے ملکوں میں جارہے ہیں۔دو تین واقعات قتل کے دن کے وقت بھی ہو رہے ہیں اور رات کے وقت تو مشین گنز چلتیں اور تو ہیں دندناتی ہیں۔آج قریباً تمام رات تو پوں کے دندنانے کی