حیات شمس — Page 143
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مکتوب دمشق 143 حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اپنے مکتوب محررہ دسمبر 1925ء میں اپنی مساعی کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں : دمشق کی حالت بدستور ہے۔موجودہ حالات میں تبلیغ لوگوں کے گھروں میں جا کر کی جاتی ہے اور جو ملنے کیلئے آتے ہیں انہیں بھی پیغام حق پہنچایا جاتا ہے۔پہلے شہر سے باہر مکان لیا ہو ا تھا وہاں لوگوں سے ملاقات کا کم موقع ملتا تھا مگر اب شہر میں مکان لے لیا ہے۔باوجود ان خطر ناک حالات کے ابھی کچھ نہ کچھ تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ ہفتہ میں ایک اور دوست سلسلہ میں داخل ہو گئے ہیں احباب ان کی استقامت کے لئے دعا فرمائیں۔یہاں مسیحیوں کے دومشن ہیں ایک بڑا پادری ڈنمارک کا ہے اور دوسرا امریکن ہے۔امریکن پادری کا وکیل دودن آثار ہا ہے اور مختلف مسائل کے متعلق اس سے گفتگو ہوتی رہی ہے۔قرآن کریم کے حضرت مسیح پر احسانات جب وہ مسیح کی فضیلت قرآن مجید سے ثابت کرنے لگا تو میں نے جواب میں کہا کہ مسیح کا درجہ آپ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ ثابت نہیں کر سکتے ہیں بلکہ قرآن مجید سے تو مسیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔قرآن مجید میں تو مسیح کو غلاماً زکیا کہا گیا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ویزکیھم۔مزکی، یعنی زکی بنانیوالا قرار دیا گیا ہے۔پھر مسیح کے متعلق فرمایا: ایدناه بروح القدس مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے فرمایا۔عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُولى اور شَدِيدُ القُوی کا مرتبہ روح القدس سے کہیں بڑھ کر ہے۔روح القدس کا نزول مسیح پر ایک کبوتر کی طرح ہو اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر روح القدس کی تجلی شدید القوی کے رنگ میں ہوئی۔تمام افق اس کی تجلی سے بھرا پڑا تھا۔اب ان دونوں نبیوں کے درمیان اب تو اتنا ہی فرق ہے جتنا ان دونوں تجلیوں میں۔کہاں کبوتر جسے بلی بھی پکڑ سکتی ہے اور کہاں یہ عظیم تجلی جس نے زمین و آسمان کے ما بین کو بھی پر کیا ہو ا تھا۔پھر فرمایا فایدهم بروح منه که روح القدس سے صحابہ کی تائید کی۔پس آپ قرآن مجید سے مسیح کی فضیلت ثابت نہیں کر سکتے ہیں۔وہ کہنے لگا مسیح کی بریت اور اس کے خاندان کی پاکیزگی کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے اور اس نبی کے خاندان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔بریت کی ضرورت