حیات شمس — Page 139
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 139 سے۔اس پر اخبار الزمان اور ابا بیل نے لکھا کہ یہ شخص جاہل ہے اس کی کوئی وقعت نہیں ہے لہذا اس کی طرف شاہ صاحب کو توجہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس اشتہار کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنکو ہماری آمد کی خبر بھی نہیں تھی ان کو بھی خبر لگ گئی اور ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا۔بہت سے لوگ آکر ملے اور سلسلہ کے متعلق ان سے گفتگو ہوتی رہی اس پر مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو شعر یاد آئے: ولولا ثناء الله مازال جاهل یشک ولایدری مــقــامــي ويــحـصــر فهذا علينــا مـنـة مـن ابــى الـوفـاء ارى كل محجوب ضيائي فتشكر کہ اگر شاء اللہ نہ ہوتا تو ہمیشہ جاہل شک میں رہتا اور میرے مقام کو نہ جان سکتا اور مجھ سے رکا رہتا۔پس ثناء اللہ کی یہ ہم پر منت ہے کہ اس نے ہر محجوب کو میری روشنی دکھا دی۔ایک مباحثہ کا تذکرہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ باہر کے علاقہ میں ایک گاؤں میں مباحثہ قرار پایا۔مولوی ثناء اللہ صاحب غیر احمدیوں کی طرف سے پیش ہوئے۔ہزار ہا آدمی ارد گرد سے آئے۔قریباً چھ گھنٹہ مباحثہ ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام بخوبی سنایا گیا۔اگر ہم خود کوشش کرتے تو کبھی اتنے لوگوں کو جمع کر کے نہ سنا سکتے۔جب ” زمان “ اور ” ابابیل نے اس کے خلاف لکھا تو اخبار ” العمران میں اس نے ایک مضمون شائع کرایا۔جس میں ہماری طرف ان غلط عقائد کو منسوب کر کے لوگوں کو ہمارے خلاف پھر بھڑ کا نا چاہا۔اس میں لکھا کہ احمدی کلمہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام بڑھاتے ہیں۔حوالہ حقیقۃ الوحی کا مع صفحہ لکھا اور قادیان کو عرش اللہ یقین کرتے ہیں ( دافع البلاء )۔ان مفتریات کا جواب اخبار الحسام کے ذریعے دیا گیا اور ایک ہزار روپیہ اس کیلئے انعام مقرر کیا ہے کہ اگر وہ ان امور کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب سے ثابت کر دے۔ایک دن رات کے وقت ایک دوست نے ہمیں اپنے مکان پر بلایا اور لوگوں کو بھی دعوت دی۔دو تین مشائخ بھی بلائے۔رات کے بارہ بجے تک سلسلہ کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔ایک ان میں سے کہنے لگے وحی سوائے انبیاء کے کسی کو نہیں ہو سکتی۔جواب میں قرآن مجید کی آیات إِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى