حیات شمس

by Other Authors

Page 110 of 748

حیات شمس — Page 110

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مباحث مظفر نگر 110 یہ مباحثہ آٹھ نو اور دس فروری 1924ء میں تین دن ہوتا رہا۔دوسرے روز حضرت شمس صاحب اور مولوی عبد اللطیف مولوی فاضل منشی فاضل مصطفے آبادی کے درمیان صداقت مسیح موعود کے موضوع پر ہوا۔آپ نے قرآنی آیات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت کی جس کا وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکے بلکہ سارا وقت استہزاء و تمسخر میں ضائع کیا۔کبھی دیوانوں جیسے سوال کرنے شروع کر دیئے۔پھر حضرت شمس صاحب نے اس کے اٹھائیس جھوٹ گنوائے جو اس نے تقریر کے دوران بولے تھے جن کا ایک رنگ میں اسے اقرار بھی کرنا پڑا اور دیو بند مولویوں نے اسے بہت ذلیل کیا اور اسے کہا تو نے ہمیں بہت خوار کیا ہے کاش آپ سٹیج پر نہ آتے۔تیسرے دن پھر حضرت شمس صاحب نے مولوی عبد اللطیف صاحب کے جھوٹ گنوائے اور فرمایا جو شخص تقریر میں اتنا جھوٹ بولتا ہے وہ کہاں تک سچا اور ایماندار ہوسکتا ہے۔یہ سن کر وہ پھر کھڑا ہوگیا لیکن تمسخر اور ٹھٹھے کے سوا کسی سوال کا جواب نہ دیا۔آخر بارہ بج گئے اور کھانا کھانے کیلئے مناظرہ بند کر دیا اور نماز ظہر کے بعد حضرت شمس صاحب نے اس کے اٹھائیس جھوٹوں میں آٹھ اور جمع کر دیئے جو اس دن اس نے پھر تقریر میں بولے۔مولوی صاحب اپنے جھوٹوں کو سن کر بالکل خاموش بیٹھے رہے۔شرم کی وجہ سے نظر او پر نہیں اٹھاتے تھے۔پھر دیوبند مولوی بدر عالم صاحب مقابلہ کیلئے کھڑے ہوئے۔مناظرہ چار بجے تک جاری رہا لیکن مولوی عبد اللطیف صاحب کی طرح وہ بھی کسی اعتراض کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور استہزاء میں اس نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مناظرہ ختم ہو گیا۔جب مولوی عمر الدین صاحب اور حضرت شمس صاحب واپس آگئے تو دیوبندی مولوی نے پھر جلسہ شروع کر دیا اور حضرت شمس صاحب کے اعتراضات کا رڈ پیش کرنے لگا اس نے کہا لو اب ہم جواب دیتے ہیں جس کا لوگوں پر بہت بُرا اثر پڑا۔لوگوں نے کہا کہ احمدی علماء کے سامنے تو آپ کی زبان بند ہو گئی تھی اور انہوں نے کئی بار مطالبہ کیا تھا کہ ہمارے اعتراضات کا جواب دیا جائے۔بستی والوں نے جب ان کا یہ حال دیکھا تو کہا کہ پھر جلسہ رکھوتا کہ تمہاری تسلی ہو جائے۔الفضل قادیان 22 فروری 1924ء) مباحثہ جاده اس مباحثہ کی بابت حضرت مولانا شمس صاحب کا اپنا بیان ہے :