حیات شمس

by Other Authors

Page 107 of 748

حیات شمس — Page 107

حیات ہنس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 107 معلوم نہیں کہ معنی موقعہ کے مطابق کئے جاتے ہیں اور پھر کہا کہ میں آپ کے اعتراضات کا جواب اتنے تھوڑے وقت میں نہیں دے سکتا۔آپ نے بہت زیادہ اعتراض کر دیئے ہیں اور پھر نہ آپ سنسکرت جانتے ہیں نہ آپ اس کی صرف ونحو کی رو سے بحث کر سکتے ہیں۔مباحثہ امرسنگھ کا نگلا (ماخوذ از الفضل قادیان 30 نومبر 1922ء) یہ مباحثہ ضلع ایٹہ کے ایک گاؤں امر سنگھ کا نگلا مشہور آر یہ پنڈت کا لی چون صاحب سے ” قرآن کریم الہامی کتاب ہے یا ویڈ" کے موضوع پر ہوا۔پہلے دو گھنٹے آریہ مناظر نے قرآن کریم پر اعتراض کئے جن کا حضرت مولانا شمس صاحب نے منہ بند کرنے والا رڈ پیش کیا۔لیکن جب وید کی باری آئی تو آریوں نے شور مچا دیا کہ منتر اصل وید سے پڑھے جائیں۔پنڈت دیا نند نے جو ترجمہ کیا ہے اس سے منتر نہ پڑھے جائیں سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ پنڈت دیانند جس کو آپ آریہ سماج کا بانی اور ریشی تسلیم کرتے ہیں اس کے ترجمے سے آپ کو محبت ہونی چاہئے نہ کہ نفرت یا پھر آپ لکھ دیں کہ دیا نند صاحب ویدوں کے علم سے واقف نہیں تھے اور ہم اس کے ترجمہ کو نہیں مانتے مگر انہوں نے کوئی بات نہ مانی نہ ہی مباحثے کیلئے رضامند ہوئے جس سے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ وہ مباحثہ سے بھاگ رہے ہیں۔راجپوتوں نے جو غیر مسلم تھے آریوں کے فرار پر اسلام کی جے“ کے نعرے لگائے اور حضرت شمس صاحب کی تحریری شہادت دی۔دیو بند کے دو مولوی صاحبان نے بھی جو جلسہ میں شریک تھے،شہادت پر دستخط کئے اور ثابت کر دیا کہ احمدیت کچی ہے کیونکہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔الفضل قادیان 24/21 مئی 1923ء) مباحثہ بھونگا ؤں ضلع میں یوری یہ مباحثہ حضرت مولانا شمس صاحب اور پنڈت مہاشہ رام چندر صاحب دہلوی کے مابین جولائی 1923ء کے عشرہ اول میں طے شدہ شرائط کے ماتحت ہوا۔مباحثہ سے قبل فریقین کی جانب سے اس مباحثہ کی بابت اشتہار بھی شائع ہوئے جو ماہ جون میں تقسیم کئے گئے۔اس مباحثہ میں مولانا شمس صاحب نے دلائل سے آریوں کا مونہہ بند کر دیا۔مباحثہ کے آخر پر آریہ حضرات شرائط مناظرہ سے بالا تر ہوکر قرآن کریم پر اعتراضات کرنے پر اتر آئے۔اس مباحثہ کی روئیداد حضرت میر قاسم علی صاحب دہلوی کی قلم سے الحکم میں محفوظ ہے۔اس مباحثہ کی بابت حضرت میر قاسم علی صاحب دہلوی کی ایک نظم پیش ہے: