حیات شمس — Page 97
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 97 برصغیر میں انیسویں اور بیسویں صدی میں مذہبی اور دینی نوعیت کے بین الفرق اور بین المذاہب سینکڑوں مناظرت و مباحثات ہوئے۔سلسلہ عالیہ احمد یہ عالمگیر کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس میدان میں ہمیشہ سلسلہ کے مناظرین و مباحثین اور متکلمین کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی کامیابی و کامرانی سے نوازا۔اس میدان میں دور امام مہدی آخر الزمان سے لیکر تا حال سلسلہ میں سینکٹروں نابغہ روزگار ہستیوں نے جنم لیا۔بزرگ علمائے سلسلہ میں سے مباحثہ اور مناظرہ کے میدان میں ذیل کی شخصیات خصوصاً عدیم المثال تھیں۔حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب، حضرت میر قاسم علی صاحب ، حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب، حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ، حضرت مولانا رحمت علی صاحب ، حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری، حضرت مولانا شیخ مبارک احمد صاحب اور حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس۔ان بزرگان کے کئی مناظرے اور مباحثے زیور طباعت سے بھی آراستہ ہوئے جن سے سینکڑوں افراد نے استفادہ کیا مگر عصر حاضر میں مباحثوں اور مناظروں کا رنگ ہی بدل چکا ہے بلکہ یہ فن بہت کم ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ نا پید ہوتا جارہا ہے۔نہ تو وہ لوگ رہے نہ اس طرح روایات کے ساتھ مناظروں کا رنگ رہا اور نہ ماحول۔شاید اس کی وجہ برصغیر میں آجکل بدامنی اور نقض امن کا مسئلہ بھی ہے جس کا اس قدیم علمی فن پر بھی اثر پڑا۔بہر حال وجہ خواہ کوئی بھی ہو ہمارے اسلاف نے اس میدان میں محض اللہ اور اللہ کے فضل و کرم سے خوب کام کیا اور نام کمایا۔اس باب میں حضرت مولانا شمس صاحب کے بعض مناظرات و مباحثات کا تذکرہ پیش کیا جا رہا ہے۔خدام الاحمدیہ کے صدر اول مکرم ومحترم مولوی قمر الدین صاحب مرحوم، حضرت مولانا شمس صاحب کے چچازاد بھائی تحریر کرتے ہیں : متحدہ ہندوستان کے وقت آریوں و عیسائیوں سے آپ کے مناظرات ہوئے۔ملکانہ کے زمانه ارتداد کے زمانہ میں آپ کو خدا نے بڑی خدمت کرنے کی توفیق دی۔مناظرات پر ہمیشہ آپ کو بھجوایا جاتارہا۔پنڈت رام چندر سے دہلی میں مولانا موصوف کا کامیاب مناظرہ ہو اجو