حیات شمس

by Other Authors

Page 73 of 748

حیات شمس — Page 73

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس تحریک شدھی ملکانہ میں خدمات جلیلہ 73 مسلمانان ہندوستان کیلئے 1923ء اور 1924 ء کے سال کسی قیامت صغریٰ سے کم نہیں تھے۔جب ہر طرف ارتداد کا بازار گرم تھا اور سادہ لوح مسلمانوں کو شدھی کی بھینٹ چڑھایا جا رہا تھا اس وقت سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تحریک پر بیسیوں پر جوش نو جوانان احمدیت نے میدان ارتداد میں دن رات ایک کر کے اور کئی دن بھوکے پیاسے رہ کر گاؤں گاؤں بستی بستی اور قریہ قریہ پھر کر مسلمانوں کے ایمان بچانے کیلئے یادگار اور تاریخی خدمات سرانجام دیں۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے کئی وفود میدان ارتداد میں مسلمانوں کی خدمات کیلئے روانہ ہوئے۔ان وفود کے نوجوانوں میں سیکھواں کے ایک پُر عزم نوجوان جلال الدین صاحب شمس بھی تھے۔ان دو سالوں میں آپ نے بیسیوں مسلمانوں کے ایمان بچانے کیلئے سعی بلیغ کی۔باوجود یکہ ان پر درد اور پر آشوب ایام میں ملاں حضرات حسب فطرتی روایت اور بعض مسلمان اخبارات بھی مجاہدین احمدیت کی کوششوں کو تضحیک و استہزاء کی نظر سے دیکھ رہے تھے تا ہم ان اندوہ ناک آوازوں کے باوجود ہمارے مجاہدین مبلغین نے ملکانہ راجپوتوں کی کئی پنچائتیں منعقد کروائیں۔مولانا شمس صاحب نے میدان ارتداد میں کئی مناظرے اور مباحثے بھی کئے۔مئی 1923 ء میں ضلع ایٹہ کے ایک گاؤں امر سنگھ میں آریوں کے پنڈت کا لی چون صاحب سے کامیاب مباحثہ ہوا جس کی تفصیل الفضل قادیان 21-24 مئی 1923ء میں شائع ہو چکی ہے۔مجاہدین کا پہلا وفد جس کے امیر حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال تھے 19 افراد پر مشتمل قادیان سے روانہ ہو ا۔اس وفد کی روانگی سے چند دن بعد مولانا جلال الدین صاحب شمس بھی آگرہ اور اس کے ماحول میں مناظرات و تقاریر کیلئے بھجوائے گئے۔( الفضل قادیان 15 مارچ 1923 ء- کارزار شدهی از ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم ) میدان شدھی کی گوناگوں مصروفیات کے باوجود مولانا شمس صاحب کا قلم چلتا رہا اور الحکم اور ریویو آف ریلیجنز میں آپ نے کئی علمی وتحقیقی مضامین سلسلہ احمدیہ کی تائید میں لکھے۔اسی عرصہ میں آپ کئی