حیات شمس — Page 71
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 71 سننے سے پوری یاد نہیں رہ سکتی اس کو بار بارسننا چاہیے۔ہاں تحریروں میں ایک بات بار بار لانا ٹھیک نہیں کیونکہ انسان ایک جگہ سے بار بار پڑھ سکتا ہے لیکن قرآن کریم میں ایک واقعہ بار بار بیان کیا جاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ نیز آپ نے شاید اپنے جیسے مولویوں پر قیاس کر کے کہہ دیا کہ ہر دفعہ ایک ہی تقریر ہوتی ہے لیکن آپ جانتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر نئے سے نئے معارف کھولتا ہے۔مولوی: جواب ندارد ( پھر مولوی صاحب کہنے لگے کہ آپ قرآن وحدیث اور فقہ کو مانتے ہیں ) ؟ احمدی: ہاں بسر و چشم مانتے ہیں۔مولوی : لکھ دو لوکا غذ اور قلم دوات۔احمدی: میں نے لکھا کہ میں قرآن مجید کو خدا تعالیٰ کا کلام جانتا ہوں اور ایسی احادیث کو جن کے متعلق قرآن کریم خلاف نہیں کہتا صحیح جانتا ہوں اور نیز فقہ کے ایسے مسائل جو کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے مخالف نہیں صحیح سمجھتا ہوں۔اس پر مولوی صاحب جھنجھلائے اور آگ بگولا ہو گئے اور بہت واویلا کرنا شروع کیا۔مولوی : تم اتنا فقرہ کیوں نہیں لکھ دیتے کہ میں قرآن اور حدیث اور فقہ کو مانتا ہوں اور کیوں تفسير القول بما لا یرضی قائلہ کر رہے ہیں۔احمدى::تفسير القول بما لا يرضى قائلہ آپ کر رہے ہیں نہ کہ میں کیونکہ میں نے کہا تھا کہ میں مانتا ہوں اور میں اس بات کا حقدار ہوں کہ بتاؤں کہ میرا حدیث اور فقہ سے کیا مطلب ہے نہ کہ جو آپ کہیں میں اس کو لکھوں۔مولوی: حروف المعانی کی تفسیر تو کی جاسکتی ہے کہ میری مراد اس لفظ سے فلاں معنی ہیں۔لیکن تم اس کی تفسیر کیوں کرتے ہو۔وہی فقرہ کیوں نہیں لکھ دیتے۔احمدی: میں نے تفسیر اس واسطے کر دی کہ حدیث کے ماتحت کئی قسم کی احادیث تھیں۔ضعیف، موضوع صحیح۔تو میں نے اس کی تفسیر کر دی کہ میری مراد اس سے ایسی احادیث ہیں جو کہ قرآن مجید کے خلاف نہ ہوں۔مولوی صاحب پھر کہنے لگے کہ میرے ساتھ مناظرہ ثالث ٹھہرا کے کرلو۔میں نے کہا کہ میں آپ کو تحریر میں تین بار چیلنج بذریعہ اخبار الفضل دے چکا ہوں جس کا آپ نے ابھی تک جواب نہیں دیا اور میں 11 دسمبر کے الفضل میں ثالث پر قرآن اور حدیث