حیات شمس — Page 40
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس احباب جماعت کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے لکھا: 40 40 1953ء کے فسادات کے متعلق تحقیقاتی عدالت کے سامنے جماعت احمدیہ کا مؤقف پیش کرنے کے سلسلہ میں آپ نے بہت محنت سے کام کیا۔اس کے بعد آپکی صحت کمزور ہوگئی۔بعد میں صحت کی خرابی کی وجہ سے ہسپتال داخل ہو گئے تو معلوم ہوا کہ آپ کو پلورسی ہے اور ذیا بیطیس بھی۔ذیا بیطیس کیلئے دوائی استعمال کرتے رہتے لیکن جس قدر آرام کی ضرورت ہوتی ہے وہ نہ مل سکا۔کچھ عرصہ کے بعد آپ کو دل کی درد (Angina Pectoris) کی تکلیف بھی شروع ہوگئی۔آخری دنوں میں تکلیف کچھ زیادہ ہوگئی تھی اور 13 اکتوبر 1966 ء کو آپ سرگودھا تشریف لے گئے اور عصر کی نماز کے وقت پھر درد محسوس ہوئی۔دوائی وغیرہ لینے سے طبیعت سنبھل گئی لیکن مغرب کی نماز کے بعد آپ کو دوسری مرتبہ سخت درد ہوئی اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ان کی وفات کے موقعہ پر جہاں پاکستانی احباب نے ہمارے خاندان کے ساتھ دلجوئی اور ہمدری کا اظہار فرمایا ہے اور کثیر تعداد میں ان کے جنازہ میں شرکت فرمائی ہے وہاں امریکن جماعتوں نے بھی بہت ہمدردی فرمائی ہے۔چنانچہ مکرم سید عبد الرحمن صاحب،مولاناشکر الہی صاحب، مولانا بنگالی صاحب، مولانا میجر عبد الحمید صاحب اور سید جواد علی صاحب ،سب نے اظہار ہمدردی فرمایا۔مکرم ڈاکٹر نصر اللہ خان صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ ہمارے لئے کھانا بھی لائے اور مکرم داؤد احمد ملک اور ان کی اہلیہ صاحبہ بھی ہمارے لئے کھانا لائے اور ہماری دلجوئی فرمائی اور بہت سے احباب نے ہمارے ساتھ تعزیت فرمائی۔اللہ تعالی ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نہایت مشفقانہ رنگ میں حضرت ابا جان کی تعزیت فرمائی۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین۔(الفضل ربوہ 20 دسمبر 1966ء) آپ کا وصال 13 اکتوبر 1966ء کی شام حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے سرگودھا میں ہوا۔آپ کے وصال پر متعدد ادارہ جات اور جماعتوں کی طرف سے تعزیتی پیغامات موصول ہوئے۔بطور نمونہ بعض کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔(انفرادی خطوط اور تار اس کے علاوہ ہیں ) لوکل انجمن احمدیہ مجلس عاملہ لجنہ اماء الله مرکز یہ کارکنان تحریک جدید انجمن احمدیہ، کارکنان