حیات شمس — Page 664
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ہوتی ہے۔دیکھا کہ نہایت خوشگوار باد نسیم چل رہی ہے اور میں ایسی لطیف ٹھنڈک محسوس کر رہا ہوں جس کی کیفیت الفاظ میں ادا نہیں کی جاسکتی۔پھر ایسا محسوس ہوا کہ میرا تمام جسم میرے کنٹرول میں نہیں رہا۔یہاں تک کہ زبان سے بولنا بھی میرے اختیار سے باہر ہو گیا۔پھر تھوڑی دیر کے بعد میری زبان پر الحمد للہ کے الفاظ جاری ہوئے اور دیر تک الحمد للہ کہتا رہا۔اس کے بعد وہ حالت چلی گئی۔لیکن تھوڑی سی دیر کے بعد پھر وہی پہلی سی حالت طاری ہوئی اور میری زبان پر رَبُّ الْعَالَمِيْنَ - اَلرَّحْمَنِ الرَّحِیم‘ کلمات جاری ہوئے اور متعدد بار ہوئے۔پھر اس کے ساتھ یہ تفہیم جاری ہوئی کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہونے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کی ان تینوں صفات کے مظہر ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے بھی یہ بات عرض کر دی جائے۔لیکن خواب میں مجھے یاد نہیں کہ بتائی ہے یا نہیں۔پھر اس کے بعد ایک اور نظارہ دیکھا کہ ہم ایک کمرہ میں ہیں اور نماز فجر کے لئے تیاری ہے۔632 ملک غلام فرید صاحب اور حضرت میاں بشیر احمد صاحب بھی ہیں۔وہ خوابوں کی باتیں کر رہے ہیں۔وہ ایک بات کے بعد دوسری بات شروع کر دیتے ہیں میں انہیں یہ خواب نہ سنا سکا۔پھر میں نے ملک صلاح الدین سے خواب کی حالت بیان کرنی شروع کی تو انہوں نے بریز کا لفظ بولا۔پھر بریز (باد نسیم ) چلنی شروع ہوئی۔پھر میں نے ان سے کہا کہ میری زبان پر الحمد للہ کے الفاظ جاری ہوئے جو شکریہ کے وقت کہے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی۔گویا وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ بجلی گرنے کے وقت بھی تو کہے جاتے ہیں۔میں نے اس وقت ان کی اس تعبیر کو پسند نہ کیا۔میں نے کہا۔شکریہ کے وقت کہے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی مجھے نیم بیداری کی سی حالت ہوگئی اور میں دل میں کہتا ہوں کہ میں اس کی تعبیر پہلے کر چکا ہوں اور پھر میری زبان پر یہ فقرہ جاری ہوا۔دشمن پر بجلی گری اور ہم پر خدا تعالی کا انعام ہوا۔اور کئی منٹ تک یہی الفاظ جاری رہے۔نہ معلوم کتنی دیر یہ فقرہ میری زبان سے نکلا شائد پچاس دفعہ کے قریب ہوگا۔میں یہ الفاظ کہہ ہی رہا تھا کہ غسل خانہ میں کسی کے داخل ہونے کی آواز آئی اور نیم بیداری کی حالت جاتی رہی اور میں نے آواز دی کہ کیا میاں عطاء اللہ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔میں نے پوچھا اذان تو نہیں ہوئی ؟ انہوں نے کہا۔نہیں۔وقت دیکھ کر کہا کہ پانچ