حیات شمس — Page 627
595 حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس سایتی لٹریچر انی یاد گار چھوڑا جو نہایت اہم مسائل پرمشتمل ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیگر صلاحیتوں کے علاوہ انتظامی صلاحیت سے بھی نوازا تھا۔چنانچہ آپ نے تبلیغ کے میدان کے علاوہ سلسلہ کے نہایت اہم اور اعلیٰ ذمہ داری کے مناصب پر فائز ہوکر اپنے فرائض کو عمدہ طریق پر سر انجام دیا۔چنانچہ آپ کو سالہا سال تک بطور انچارج مشنہائے ممالک بیرون ، نائب ناظر اعلی ، صدر کار پرداز مقبره بهشتی ، ناظر اصلاح و ارشاد اور الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر کے طور پر سلسلہ کی بہت اہم خدمات کا موقعہ ملا۔اس کے علاوہ ربوہ کے قیام کے ابتدائی سالوں میں کئی سال تک آپ بطور جنرل پریذیڈنٹ ربوہ بھی نہایت خوش اسلوبی سے خدمات سلسلہ بجالاتے رہے اور اپنی خدا داد انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے رہے۔آپ کو بے حد محنت کی عادت تھی۔سلسلہ کے کاموں میں کبھی آپ نے دن یا رات کی پرواہ نہ کی۔خاکسار کو بھی 1953ء کے فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کی کاروائی کے دوران حضرت مولانا شمس کے ساتھ تقریباً ساتھ آٹھ ماہ تک دن رات کام کرنے کا موقعہ ملا۔آپ نہایت ہی محنت سے اپنے فرائض ادا کرتے۔تمام دن عدالت عالیہ کی کارروائی میں شریک ہوتے اور واپس آ کر تقریباً ساری ساری رات اگلے دن کے لئے تیار کرنے اور مخالف علماء کے بیانات کے جواب تیار کرنے میں لگے رہتے حتی کہ اپنی صحت کا بھی خیال نہ فرماتے۔چنانچہ اسی محنت شاقہ کے باعث انہی ایام میں آپ کی صحت گرنی شروع ہو گئی۔وہاں سے فراغت پر الشرکة الاسلامیہ لمیٹیڈ کے قیام پر آپ بطور مینیجنگ ڈائریکٹر مقرر ہوئے تو اس کمپنی کو چلانے کے لئے آپ نے دن رات محنت کی اور لمبے لمبے سفر بھی اختیار کئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور آپ کے ملفوظات کی اشاعت کی کوشش میں شبانہ روز محنت کی۔خود ہی کا پیوں اور پروفوں کی نگرانی فرماتے اور تمام کتب کے انڈیکس بھی خود ہی تیار کرتے۔اس طرح آپ کی صحت پر بہت زیادہ اثر پڑا اور آپ ایک لمبے عرصہ تک پلورسی کی تکلیف میں مبتلا رہے اگر چہ علاج معالجہ کے بعد یہ تکلیف جاتی رہی لیکن صحت کمزور ہو چکی تھی۔مگر سلسلہ کے کاموں کا بوجھ پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا تھا۔آپ نے اپنی طاقت سے بھی بڑھ کر کام کیا۔علاوہ دیگر خوبیوں اور اوصاف کے آپ میں خلافت سے محبت اور خلیفہ وقت سے وابستگی اور شیدائیت کا وصف اپنے کمال کو پہنچا ہو ا تھا۔چنانچہ آپ نے حضور کی لمبی بیماری کے ایام میں اپنے خطبات اور تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ جماعت کی اعلیٰ رنگ میں تربیت کی اور خلافت سے وابستگی اور اس پر