حیات شمس — Page 611
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 579 خبر دی کہ حضرت شمس صاحب وفات پاگئے ہیں۔ہمارے لئے یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔والدہ صاحبہ نے یہ خبر بہت صبر سے سنی مگر آنسو جاری تھے۔ہم سب افراد خانہ ربوہ جانے کے لئے پیدل چل پڑے اور رات ہی ربوہ پہنچ گئے۔آپ متقی، پرہیز گار، مشفق، کامیاب مناظر فصیح البیان مقرر تھے۔سادہ مزاج ، با اخلاق، پر وقار اور پر رعب رفتار و گفتار کے مالک تھے۔آپ سے جو ایک بار ملا وہ بار بار ملنے کا خواہش مند ہوتا اور دعا کا کہتا۔ہر ایک کے ساتھ شفقت اور محبت کرنے والا وجود تھا۔آپ کی زندگی کو خاکسار نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔میرے ساتھ بہت ہی محبت اور پیار کا تعلق تھا۔مختصر زندگی میں بے شمار واقعات ہیں جو میری زندگی کی راہنمائی کا موجب بنے۔ان کی وفات کے بعد کچھ ابتلاء بھی آئے جو گزر گئے۔چند واقعات کا ذکر کرتا ہوں۔خاکسار نے جب میٹرک کا امتحان دیا تو حضرت شمس صاحب نے فرمایا الشرکۃ الاسلامیہ میں آ جایا کریں، کام بھی کریں اور سلسلہ کی کتب کا مطالعہ بھی کیا کریں۔ابھی نتیجہ نہیں نکلا تھا تو الشرکۃ الاسلامیہ میں کام کرتا رہا۔حضرت شمس صاحب الشرکۃ الاسلامیہ کے مینیجنگ ڈائریکٹر تھے۔وہاں جتنا کام کیا اس کا معاوضہ بھی ملا اور جو سلسلہ کی کتب پڑھنے سے مجھے فائدہ پہنچا بیان سے باہر ہے۔اسی دوران میٹرک کا نتیجہ بھی نکل آیا اور میں پاس ہو گیا اور میں نے ارادہ ظاہر کیا کہ حضرت ماموں جان سے سفارشی خط لے کر کہیں باہر ملازمت کی کوشش کی جائے۔محترم ماموں جان نے سفارشی خط دینے سے انکار کر دیا اور ہدایت فرمائی کہ کہیں باہر نہیں جانا، صدر انجمن احمدیہ کا کمیشن کا امتحان دوں اور خدمت سلسلہ بجالاؤں۔کافی کوشش کے باوجود سفارشی خط نہ ملا اور کمیشن کا امتحان پاس کر کے صدر انجمن احمد یہ میں ملازمت اختیار کرلی۔خاکسار سمجھتا ہے کہ سلسلہ کی خدمت کی توفیق محض حضرت شمس صاحب کی توجہ سے ملی اور خاکسار نے اس نصیحت پر عمل کیا اور پھر کبھی باہر جانے کا سوچا بھی نہیں تھا۔حضرت شمس صاحب اپنی ہمشیرگان سے بہت پیار کا سلوک فرماتے اور ہمیشہ رابطہ رکھتے۔خاکسار کی والدہ اور ہم سب احمد نگر رہتے تھے۔حضرت شمس صاحب باوجود مصروفیات کے ہفتہ میں ایک بار ضرور اپنی ہمشیرہ (رمضان بی بی ) کو ملنے احمدنگر تشریف لاتے۔ہماری نانی جان کو بھی اپنی اس بیٹی سے بہت محبت تھی اس لئے اکثر کئی کئی دن احمد نگر آکر رہتیں۔حضرت شمس صاحب اپنی والدہ صاحبہ سے بھی ملنے کیلئے احمدنگر تشریف لاتے۔حضرت شمس صاحب اکثر عصر کے بعد احمد نگر تشریف لاتے۔سب سے فرداً فرداً خیریت دریافت