حیات شمس — Page 480
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 464 تعریف کے ساتھ اس نیک نیت حاکم کا تذکرہ رہے گا اور یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ خدا نے کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحات 55-56) اس کام کیلئے اسی کو چنا۔“ اس موقعہ پر در دصاحب کمرہ میں تشریف لے آئے اور کرنل صاحب سے مخاطب ہوکر کہا آپ اس زمانہ کے پیلا طوس ہیں لیکن پہلے پہیلا طوس سے بڑھ کر ہیں۔کرنل صاحب نے کہا کیوں نہیں۔پھر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا فوٹو دیکھ کر کہنے لگا یہ نہایت ذہین اور عقلمند ہیں۔یہیں لنڈن میں میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔وہ اس خیال سے کہ وہ انگریزی زبان میں اچھی طرح تقریر نہ کر سکیں خود تقریر نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے بہت اچھی تقریر کی تھی۔گو ابتدائے تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ ایسی تقریبوں پر گلاس یا پیالیاں وغیرہ ٹو ٹا کرتی ہیں لیکن آج انگریزی زبان توڑی جائے گی۔اگر چه موسم خراب تھا برف گر رہی تھی تاہم اللہ کے فضل سے اتنی حاضری ہوگئی جتنی لنڈن میں عام میٹنگز میں ہو ا کرتی ہے۔تمام حاضرین کا مع کرنل ڈگلس فو ٹو لیا گیا۔چائے سے فارغ ہونے کے بعد زیر صدارت مولانا عبد الرحیم در دصاحب جلسہ کی کارروائی قرآن پاک کی تلاوت سے شروع ہوئی۔مسٹر بلال مثل انگریز نومسلم نے تلاوت کی۔اس کے بعد درد صاحب نے کرنل ڈگلس کا تعارف حاضرین سے نہایت دلچسپ اور دل آویز کلمات سے کروایا اور کہا کہ کرنل ڈگلس کو سی۔ایس۔آئی اور سی۔آئی۔کے خطابات ملے ہوئے ہیں لیکن یہ سب زمینی خطابات ہیں۔ایک سب سے بڑا خطاب جو دنیا میں رہنے والا ہے وہ خدا کے فرستادہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دیا ہوا تھا۔یعنی آخری زمانہ کا عادل پیلاطوس۔اور یہ خطاب ایسا ہے جو نہ کوئی چھین سکتا ہے اور نہ کوئی اور اس خطاب کو حاصل کر سکتا ہے۔آج وہ آپ کو اس مقدمہ کے حالات سنائیں گے جس کی وجہ سے ان کو پیلاطوس کا خطاب ملا۔اس کے بعد کرنل ڈگلس نے مقدمہ کے حالات با تفصیل سنائے اور فیصلہ کی نقل جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے اس میں سے بہت سا حصہ پڑھ کر سنایا۔ان کے بعد مولوی شیر علی صاحب نے اس مقدمہ کے اپنے چشم دید واقعات سنائے اور مولوی محمد حسین بٹالوی کا کرسی طلب کرنے کا واقعہ اور پھر کرنل ڈگلس کا انہیں جھڑ کی دیتے ہوئے یہ کہنا کہ : بک بک مت کر اور پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا“ وو اس کے علاوہ دیگر حالات بیان کیے۔تقریر میں با تفصیل مسلم ٹائمز میں شائع ہو رہی ہیں۔آخر میں