حیات شمس

by Other Authors

Page iv of 748

حیات شمس — Page iv

وَاجْعَلْ لِي مِنْ أَدْنَكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا ل فتحا مبينا نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمَ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ المَوْعُود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر امام جماعت الحديد لندن 24-02-10 مکرم منیر الدین صاحب شمس السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ آپ نے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی پر مشتمل مسودہ مجھے بھیجا۔امید ہے انشاء اللہ جب یہ کتابی صورت میں چھپ کر آئے گا تو بہتوں کے لئے ایمان اور ایقان میں زیادتی کا باعث ہو گا۔یہ مجاہد احمدیت کے عملی نمونوں کا گلدستہ ہے۔خاص طور پر آجکل کے واقفین زندگی اور مبلغین کے لئے ایک مثال ہے۔میں نے جستہ جستہ اس کو دیکھا ہے۔ہر واقعہ اپنی طرف خاص طور پر متوجہ کر لیتا ہے اور اس باوفا، محنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہر وقت کوشاں رہنے والے کے لئے دعا نکلتی ہے اور رشک آتا ہے جو مسیح محمدی کے پیغام کو پھیلانے کی دھن لئے ہوئے تھا۔حضرت المصلح الموعودؓ نے یونہی انہیں " خالد احمدیت" کے خطاب سے نہیں نوازا تھا۔اور حضرت مصلح موعودؓ کا کسی کو ایک خطاب سے نواز نا کوئی معمولی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔حضرت مولانا صاحب کا جوانی کا زمانہ تھا یا بڑھاپے کا ہر جگہ آپ سینہ سپر نظر آتے ہیں۔ہندوستان کی شدھی تحریک ہے یا کوئی اور تبلیغ کا میدان۔عرب میں حقیقی اسلام کا پیغام اہل عرب کو پہنچانے کی کوشش ہے یا انگلستان میں عیسائیت کے گڑھ میں بے خوف و خطر اسلام کی خوبیاں بیان کرنا اور مسیح محمدی کے پیغام کو پہنچانا کہ جس مسیح کے انتظار میں تم ہو وہ دو ہزار سال پہلے وفات پا کر کشمیر میں دفن ہو چکا ہے اور اب زمانہ مسیح محمدی کا ہے اور اس دین کا ہے جو ہمیشہ رہنے والا دین ہے۔پس آؤ اور مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہو جاؤ تا کہ کہ اپنے پیدا کرنے والے کا قرب حاصل کر سکو۔پھر حضرت مصلح موعودؓ کی بیماری کے دنوں میں اس باوفا خادم سلسلہ نے بحیثیت ناظر اصلاح وارشاد بھی پاکستان کی جماعتوں کو سنبھالنے میں خوب کردار ادا کیا۔